حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 119 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 119

حقائق الفرقان ۱۱۹ سُورَة يُونُسَ ۶۵ - لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ - ترجمہ۔ ان کے لئے اس دنیا میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ یہ اللہ کی پیش گوئیاں اٹل ہیں جو بدلیں گی نہیں اور یہ ہی بڑی مراد کو پہنچنا ہے۔ تفسير - لَهُمُ البشری - ضرور ہے کہ وہ دنیا میں بھی مبشرات ( الہامات ) سے مشرف ہوں اور اس دنیا میں وہ آخر کی زندگی کا جلوہ دیکھیں۔ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ اللهِ ۔ خدا کی باتیں اٹل ہوتی ہیں ۔ عیسائیوں نے یہاں دھوکہ کھایا ہے وہ کہتے ہیں کہ کلام اللہ میں تحریف نہیں ہوتی۔ حالانکہ اس سے مراد یہ ہے کہ لَهُمُ البشری کی پیشگوئیاں ضرور واقع ہوتی ہیں۔ اور ان کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبرے مورخہ ۱۹ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحہ (۱۲۲) لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ اللہ پر اعتراض کیا ہے اگر کلمات سے مراد قانون قدرت ہے تو قرآن میں خلاف قانون قدرت کیوں؟ اگر آیات ہیں تو نسخ کیوں؟ محقق کتنے ہی احکام قرآن سے دکھا سکتا ہے جو پہلے جائز کئے اور پھر ممنوع ۔ شراب پہلے حرام نہیں کیا پھر حرام کیا ۔ اسی طرح بیت المقدس قبلہ تھا۔ پھر نہ رہا۔“ الجواب: جس کو تم لوگ قانون قدرت کہتے ہو اس کے خلاف بھی قرآن کریم میں ایک کلمہ نہیں مگر یہ یادر ہے کہ قانون قدرت میں تھیوریاں، خیالی فلسفہ پیش نہ کرنا۔ سائنس کے خلاف کچھ دکھاؤ! اور نسخ بمعنے ابطال حکم بھی۔ قرآن کریم میں قطعا نہیں ! کیا معنی؟ قرآن کریم میں کوئی ایسا حکم موجود نہیں جس پر کسی زمانہ میں تو ہم کو عملدرآمد کرنا ضرور تھا اور اب اس پر عملدرآمد کسی طرح جائز نہ ہو بلکہ قطعناً ممنوع ہو۔ مثلاً بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم جس آیت میں ہو وہ آیت قرآن کریم میں تو قطعا موجود نہیں۔ اسی طرح ایسی آیت بھی کوئی نہیں اور قطعا قرآن کریم میں نہیں کہ جس میں لکھا ہو۔ شراب حلال ہے تم پیا کرو۔ ہاں یہ بات ہے کہ شراب پہلے ہی حرام کیوں نہ کیا۔