حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 117 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 117

حقائق الفرقان ۱۱۷ سُورَة يُونُسَ تفسیر یہ بات چلی ہوئی تھی کہ معیار صداقت کیا ہے۔ انبیاء اور ان کے اتباع کا یہ قاعدہ ہے کہ ان کو کوئی مسئلہ معلوم نہ ہو تو خاموش رہتے ہیں۔ ایک تاریخی واقعہ یاد آیا کہ ایک عالم سے ایک مسئلہ پوچھا گیا تو وہ خاموش رہے۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ پھر اب کس سے پوچھیں؟ انہوں نے کہا تم ایک مسئلہ کے نہ جاننے سے گھبراتے ہو حالانکہ کس قدر میری لا ادریاں ہیں ۔ پس یہ بھی معیار صداقت ہے کہ راست باز اپنی اٹکل بازی سے کچھ چیزوں کو حلال یا حرام نہیں ٹھہراتا۔ لَذُو فَضْل ۔ وہ اپنے فضل سے حرام و حلال بتا دیتا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۷ مورخہ ۱۹ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحہ ۱۲۲) ۶۲ - وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُوا مِنْهُ مِنْ قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كتب مُّبِين - ترجمہ ۔ ۔ تو کسی حال میں کیوں نہ ہو اور قرآن میں سے کچھ بھی کیوں نہ پڑھتا ہو اور تم کچھ بھی عمل کیوں نہ کرتے ہو مگر ہم تمہارے پاس موجود رہتے ہیں تمہاری حفاظت کرتے ہیں جب کہ تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو اور چھپ نہیں سکتی تیرے رب سے ذرہ بھر چیز زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ اس سے بڑھ کر چھوٹی اور نہ اس سے بہت بڑی مگر وہ واضح کتاب میں محفوظ ہے۔ تفسیر۔ ایک اور معیار صداقت بتاتا ہے۔ تم نے سنا ہوگا کہ حضرت عمرؓ بڑے رعب والے تھے۔ حضرت علی نے کوفہ میں جا کر جب بہت سی مشکلات دیکھیں تو ابن عباس نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے پہلے لوگوں کو اتنی جرات نہ ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا۔ ابن عباس! تم ہی کہو۔ جب تم آذربائیجان ( میں ) تھے تو عمر کی نسبت کیا خیال کرتے تھے۔ وہ بولے کہ میں تو ایسا سمجھتا تھا کہ ایک جبڑا تو ان کے ہاتھ میں ہے اور دوسرے پر پاؤں رکھا ہوا ۔ چاہیں تو ابھی چیر دیں۔ اس پر حضرت علی ل جمع لا ادری: میں نہیں جانتا۔ مرتب