حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 114 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 114

حقائق الفرقان ۱۱۴ سُورَة يُونُسَ جس کے ساتھ کوئی انعام لگا نہیں کھا سکتا۔ تیسری بات یہ ہے کہ اس چیز کے بدلہ میں کوئی اور چیز دے دی جائے مثلاً کوٹ کا وعدہ ہے۔ مگر ضرورت دیکھ کر اسے رضائی و تو شک دے دیں۔ صورت میں تو اختلاف ہو گیا مگر نفس وعدہ میں اختلاف نہیں ہوا۔ ایک اور غلطی ہے کہ پیشگوئیاں معیار صداقت ٹھہریں۔ دنیا میں پیشگوئی خدا کا قول ہے۔ جیسا اس کا قول سچا ، فعل بھی سچا ہوتا ہے۔ کاشتکاروں کو دیکھو کہ جب ایک دفعہ انہوں نے گیہوں کے ایک دانے کے بہت سے دانے ہوتے دیکھے تو پھر بیج بو کر کہہ دیتے ہیں کہ اب ہماری فصل پک جاوے گی۔ یہ گویا خدا کے ایک فعل کی بناء پر پیشگوئی کی ہے۔ اسی طرح جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں بچے کی گاڑی پر آ جاویں گے۔ یا ہم ایف اے، بی اے کر لیں گے تو یہ ایک طرح کی پیشگوئیاں ہیں ۔ مگر ممکن ہے جیسا کہ امید کی گئی ہے یہ بات پوری نہ ہو۔ کوئی درمیانی حادثہ پیش آ جاوے۔ مگر تا ہم کہنے والے کو جھوٹا نہ کہیں گے اور نہ بعض دفعہ ان درمیان میں پیش آنے والی باتوں کی بناء پر لوگ کام چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ کیونکہ ہمیشہ کثرت کی بناء پر فیصلہ ہوتا ہے اور کثرت پر اعتبار کیا جاتا ہے۔ پس معیار صداقت کثرت وقلت کی بناء پر ہے ۔ دیکھو لوگ مجھے طبیب اور تجربہ کار سمجھتے ہیں تو کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ سب بیمار میرے ہاتھ سے شفا پاگئے ۔ جب ایسا نہیں ہوتا تو پھر لوگ کیوں میری طرف رجوع کرتے ہیں ۔ کثرت کی بناء پر ۔ پس تمام پیشگوئیوں کا انہی الفاظ میں پورا ہونا ضروری نہیں ۔ اعتراض کیا جاتا ہے کہ قول میں کیوں اختلاف ہوا۔ ہم کہتے ہیں کہ فعل الہی میں کیوں اختلاف ہوتا ہے اصل بات یہ ہے کہ بعض اوقات تنزل ترقیات کے لئے ہوتا ہی بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ کے معنی اس تشریح سے سمجھ میں آجائیں گے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۷ مورخه ۹ ۱ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۲۱، ۱۲۲) أوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ ۔ یہاں تک ہم روح قبض کر لیں گے تیری تشید الاذہان جلد نمبر ۹ ما تمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۵۸)