حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 112
حقائق الفرقان الله سُورَة يُونُسَ ۴۲۔ وَ إِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ لِي عَمَلِي وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنْتُمْ بَرِيتُونَ مِمَّا اعْمَلُ وَ أَنَا بَرِى مِمَّا تَعْمَلُونَ - ترجمہ۔ اور اگر تیری تکذیب کرتے ہی رہیں تو تو کہہ دے کہ میرا کام میرے ساتھ ہے اور تمہارا کام تمہارے ساتھ ہے تم میرے کام کے ذمہ دار نہیں اور میں تمہارے کام کا ذمہ دار نہیں۔ تفسیر - وَإِنْ كَذَّبُوكَ ۔ باوجود ان بیج باہرہ کے پھر بھی جھٹلا ئیں تو اور ثبوت لو۔ وہ یہ کہ تم بھی اپنا کام کر رہے ہو اور میں بھی۔ دیکھیں کہ خدا تعالیٰ کس کا حامی ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی قولی شہادت کے ہے ہو اور میں بھی۔ وہ علاوہ فعلی شہادت کس کے حق میں ہوتی ہے۔ میں نے اپنے نزدیک ایک معیار رکھا ہے جو اس آیت سے نکلتا ہے۔ بہت ہی معلی الطبع ہو کر خیرات و صدقہ و استغفار کر کے بالاستقلال دعا مانگے تو کبھی دھوکے میں نہیں رہتا۔ میں نے بارہا اس اصل سے مدد لی ہے۔ یعنی ان شرائط سے دعا کرتا ہوں۔ دینیات کے محکمہ کا آفیسر جبرئیل ہے۔ دنیا کے محکمہ کا آفیسر میکائیل ہے۔ اور اموات کے محکمہ کا آفیسر عزرائیل ہے اور جہات کے محکمہ کا آفیسر اسرافیل ہے۔ جو کام ہوتے ہیں وہ انہی کی معرفت ہوتے ہیں۔ اسی لئے ان چاروں کا نام اندر لے لیتا ہوں اور یوں کہتا ہوں ۔ ربّ ۔ دوم لاحول کی ۔ ۔ کثرت ۔ سوم الحمد - چہارم خیرات دیتا ہوں ۔ پنجم عاجزی سے نماز کے اندر دعا مانگتا ہوں۔ ایک وعدہ ہوتا ہے اور ایک وعید ۔ دونوں میں فرق ہے اگر کسی سے کہیں تم ہمارا یہ کام کر دو تو ہم تمہیں دس روپے انعام دیں گے اور اگر کہیں کہ یہ کام نہ کرو گے تو سزا پاؤ گے۔ وعدہ ہوتا ہے کسی کو انعام دینے کے لئے ۔ اور جو نارضامندی کے ظاہر کرنے کے لئے بات کی جاوے یا سلوک کیا جاوے۔اسے وعید بولتے ہیں ۔ اس وعدہ وعید کے متعلق یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ عربی زبان میں یہ مشہور ہے۔ اِنِّي إِذَا وَعَدْتُهُ أَوْ أَوْ عَدْتُهُ مُنْجِزُ وَعُدِى وَمُخْلِفُ الْعَادِی ۔ جس سے معلوم لے میں جب اس سے کوئی وعدہ کرتا ہوں یا میں اسے کوئی دھمکی دیتا ہوں تو میں اپنے وعدے کو پورا کرنے والا ہوتا ہوں اور وعید پر عمل نہیں کرتا۔