حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 111
حقائق الفرقان ۱۱۱ سُورَة يُونُسَ کے دلائل اور حالات کسی تفصیل سے دیئے ہیں۔ ایسا ہی جناب الہی کی ذات کے متعلق تو رات میں اختصار ہے اور خدا کے مجسم ہونے کی نسبت کچھ اس قسم کا بیان ہے کہ اس کی غلط فہمی سے مسیح کو خدا بنادیا ہے مگر خدا نے قرآن شریف میں اس مسئلہ کو خوب کھولا ہے۔ ان دو ثبوتوں کو پیش کرنے کے بعد فرماتا ہے کہ اس سے لا رَيْبَ فِيهِ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ ہونے کا ثبوت ملتا ہے ۔ مگر ایک اور ثبوت لو وہ یہ کہ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ (البقرۃ: ۲۴) اس کی مثل ایک سورت تو بنا لو اگر ایک شخص واحد کوئی کلام بنا سکتا ہے۔ تو کئی شخصوں کی مجموعی قوت ضرور بنا سکتی ہے۔ جب ایسا نہیں کر سکتے تو صاف ثابت ہوا کہ یہ خدا کا کلام ہے۔ ولنعم ما قيل ه بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز تو پھر کیونکر بنا نا نو رحق کا اس پہ آساں ہے ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبرے مورخہ ۹ ۱ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحہ ۱۲۱) یہ قرآن اللہ کے سوا اور کا بنایا ہوا نہیں لیکن تصدیق ہے اس کتاب کی جو اس کے آگے ہے۔ عیسائی علماء نے عدم منہی قرآن سے تصدیق و مصدق کو جو قرآن میں جا بجا آیا ہے کچھ اور ہی سمجھ کر خامہ فرسائی کی ہے۔ اصل مطلب یہ ہے کہ موسیٰ نے پیشینگوئی کی کہ میرے مثل ایک نبی پیدا ہو گا۔ اور خدا کا کلام اس کے منہ میں ڈالا جائے گا۔ اور یہ خبر اپنے وقوع کی محتاج تھی ۔ اور ضرور تھا کہ موسی کی پیشنگوئی پوری ہو۔ پس آنحضرت کے وجود مبارک اور قرآن کریم نے اس کو پورا کر دیا۔اب موسیٰ کی پیشینگوئی کی تصدیق ہو گئی ۔ پس تصدیق و مصدق کے لفظ کے یہی معنی ہیں ۔ اب اگر قرآن کو سچا نہ مانیں اور آنحضرت کو حضرت موسیٰ کا مثیل ہونا تسلیم نہ کریں۔ بایں کہ آپ نے یہ دعوی بڑے زور سے کیا اور خدا نے انہیں کامیاب کیا۔ تو کتب مقدسہ کی اقدم و اعظم کتاب توریت کی تکذیب لازم آتی ہے۔ آگے اختیار ہے۔ ( فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب ۔ حصہ دوم صفحه ۲۵۳، ۲۵۴) كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِينَ (یونس : ۴۰) ایک اور بات فرماتا ہے کہ انجام دیکھو موسیٰ و فرعون کے واقعہ کو یاد کرو ۔ دونوں شہر سے نکلے ۔ مگر مظفر و منصور کون ہوا اور ہلاک کون ہوا؟ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبرے مورخہ ۱۹ دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحہ ۱۲۱) لے تو دیکھ بے جا کام کرنے والوں کا انجام کیا ہوا ۔