حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 110
حقائق الفرقان ١١٠ سُورَة يُونُسَ وَمَا كَانَ هُذَا الْقُرْآنُ أَنْ يُفْتَرى مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَكِنْ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِنْ رَّبِّ الْعَلَمِينَ - ترجمہ۔ اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ اللہ کے سوا کسی نے بنا لیا ہو لیکن تصدیق ہے الہی کلام ( توریت) کی اور تفصیل ہے محفوظ کتاب کی اس میں کچھ ہلاکت نہیں وہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔ تفسیر اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں نبی کریم کی نبوت کے بارے میں ثبوت دیئے ہیں۔ پہلے تو فرمایا کہ تم سمجھتے ہو کہ یہ بے کس و بے بس ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ اس کا بھیجنے والا عرش کا مالک ہے۔ درمیان میں ایک بات آگئی کہ ہمیں کس طرح معلوم ہو کہ یہ راست باز ہے یا منافقانہ طور سے کہتا ہے۔ واقعی یہ سوال اہم ہے کیونکہ ہر کارخانے میں ایک کارخانہ جھوٹ کا بھی ہوتا ہے اور مصنوعی اور اصلی شئے میں تمیز کرنے سے بعض عقلیں عاجز آ جاتی ہیں۔ ایک دفعہ ہم نے ایک رقعہ لکھا اور ایک اس قسم کے مدعی سے کہا۔ اس کا جعل بنا دو۔ ہم نے اپنے رقعہ میں ایک بار یک نقطہ لگا دیا۔ جب وہ جعل بنا کر لایا تو بعینہ وہ نقطہ اس میں بھی تھا اور یہ تمیز نہ ہو سکتی تھی کہ اصل کون سا ہے۔ راست بازوں کی پہچان کے متعلق ہم کو تو بہت سی آسانیاں ہیں کیونکہ اس سے پہلے کئی نبی اور صادق ہو چکے ہیں۔ جھوٹے اور سچے کی تمیز کے لئے کئی معیار ہیں ان میں سے ایک کا بیان فرماتا ہے۔ ایک تو یہ کہ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ - اگلی کتب میں جو پیشگوئیاں ہیں وہ اس پر صادق آتی ہیں۔ حضرت نبی کریم کے بارے میں ایک پیشگوئی جو استثناء باب ۱۸ میں ہے۔ جس کی تفصیل فصل الخطاب میں ہے پھر انجیل میں خدا کی بادشاہت کا بار بار ذکر ہے جس سے مراد اسلام ہے۔ کیونکہ مسیح کو حکومت حاصل نہیں ہوئی۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۱۸ نومبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱۲۰) وَتَفْصِيلَ الْكِتب ۔ بائیبل میں بہت سے مسئلے ہیں مگر بغیر دلیل اور مختصر ۔ چنانچہ عیسی ۔ ۔ سے ایک گروہ یہود نے ( جو منکر قیامت ہیں اور فریسی کہلاتے ہیں ) کسی نے قیامت کی نسبت سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ تو رات میں لکھا ہے کہ میں ابراہیم اور اسحاق کا خدا ہوں ۔ پس اگر وہ تھے نہیں تو خدا ہوں کیسے ٹھہرا۔ مگر اب قرآن شریف کو دیکھو کہ اس نے قیامت و حشر