حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 107
حقائق الفرقان ۱۰۷ سُورَة يُونُسَ ۲۷ - لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَ زِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرُ وَلَا ذلَّةٌ أُولَئِكَ أَصْحُبُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خُلِدُونَ - ترجمہ ۔ جن لوگوں نے نیکی کی ان کے لئے نیکی ہے اور کچھ بڑھ کر بھی ملے گا اور نہ چڑھے گی ان کے چہرے پر کالک اور نہ رسوائی ہوگی ۔ یہی لوگ جنتی ہیں وہ اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ تفسیر - وَ زِيَادَة - دیدار الہی ۔ (ضمیمہ ان ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۱۸ نومبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۲۰) ۲۸- وَالَّذِينَ كَسَبُوا السَّيِّاتِ جَزَاء سَيِّئَةِ بِمِثْلِهَا وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ مَا لَهُم مِّنَ اللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ كَأَنَّمَا اغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعًا مِنَ الَّيْلِ مُظْلِمًا أوليك اصحُبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ - ترجمہ۔ اور جنہوں نے برائیمیں کمائیں تو ان کو برائی کا اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی برائی کی اور ان پر ذلت چھا جائے گی اور انہیں اللہ سے کوئی بچانے والا نہیں ( ان کے چہروں پر ایسی کا لک ہو گی ) گویا ان کے چہرے چھپا دیئے گئے ہیں سخت اندھیری رات کے ٹکڑوں سے یہ لوگ آگ والے ہیں وہ اس میں مدتوں رہیں گے۔ تفسیر ۔ جَزَاء سَيِّئَةِ بِمِثْلِهَا۔ جس قسم کا کوئی گناہ کرتا ہے اسی قسم کی سزا پاتا ہے۔ یعنی جس غرض کے لئے گناہ کرتا ہے وہ غرض حاصل نہیں ہوتی ۔ مثلاً کوئی شخص گناہ کرتا ہے تو اپنے لباس میں، اپنی زبان میں اپنے تعلقات میں ایک شان پیدا کر لیتا ہے۔ چونکہ یہ لوگ اپنی بڑائی چاہتے ہیں اس لئے تمام فہیم لوگ اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ اسی طرح چور حصولِ مال کے لئے چوری کرتا ہے وہ ہمیشہ مفلس و نادار اور غریب رہتا ہے۔ ایک چور کا ذکر ہے کہ اس نے کسی عورت کا زیور چرا لیا۔ عورت نے دیکھ لیا۔ کچھ مدت کے بعد وہی چور جس نے اس عورت کا زیور چرا لیا تھا۔ اس کو چہ میں گزرا تو اس عورت نے کہا۔ دیکھو مجھے تو خدا نے وہی زیور پھر دے دیا مگر تم ویسے ہی بھوکوں مرتے ہو۔ اس پر وہ تائب ہوا۔ اسی طرح قمار بازوں کا حال ہے۔ یہی انجام عیاشوں اور شہوت پرستوں کا ہوتا ہے کہ وہ اس