حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 1
حقائق الفرقان 1 سُورَةُ الْأَنْفَال سُوْرَةُ الْأَنْفَالِ مَدَنِيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ انفال کو اس اللہ کے اسم شریف سے پڑھنا شروع کرتے ہیں جو تہیہ اسباب کرنے والا ہے اور ۲۔ اسبابوں پر عمل کرنے والوں کو نتیجہ دینے والا ہے۔ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ ۚ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَ أَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَ أَطِيعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِينَ ۔ ترجمہ۔ تجھ سے پوچھتے ہیں امید سے زیادہ مال ملنے کا حال تم جواب دو کہ مال انفال اللہ اور رسول کا ہے تو تم اللہ کا خوف کرو اور آپس میں صلح کاری کرو اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو جب تم مومن ہو۔ تفسیر سورۃ نساء - مائدہ۔ انسان کو تمدن و معاشرت سکھلاتی ہیں ۔ سورۃ اعراف ، 6 انفال رسول علیہ السلام کی نبوت کو ثابت کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔ ایک علمی بحث نبوت ہوتی ہے جس سے عامتہ الناس فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔ یہ عالی دماغ لوگوں کے متعلق ہے۔ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۔ تین لفظ ہیں نئے غنیمت نفل ۔ فئے ۔ جس مال پر مسلمانوں کا کچھ بڑا خرچ نہ ہوا ہو۔ جیسے کہ انہ ہوا ہو۔ جیسے کہ سورہ حشر میں فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابِ (الحشر: ) ۔ نفل وہ مال جو خرچ کے بالمقابل زیادہ ملا ہو ۔ غنیمت ۔ اس لفظ کے معنوں میں عام لوگوں نے سخت غلطی کھائی ہے۔ جیسے صاحبزادہ اور حضرت گندے معنوں میں لئے جاتے ہیں۔ اسی طرح غنیمت کے معنے لوٹ کے مال کے کئے ں۔ عربی زبان میں غنیمت کہتے ہیں۔ مطلق حصول مال کو۔ عرب میں کسی کو رخصت کر ۔ کہتے ہیں سَالِما غَائِما کے ا ان یہودیوں سے تم سے تم نے تو دوڑائے نہ تھے ان پر کھ نہ تھے ان پر گھوڑے اور نہ اونٹ ۔ ۲۔ صحیح سالم اور مال حاصل کرتے ہوئے ( تو واپس لوٹے )۔