حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 91
حقائق الفرقان ۹۱ سُورَةُ التَّوبة تفسیر۔ انسان کی ضرورتیں ، اس کی کم نظریاں ، انعامات الہیہ کی وسعت سے بے خبری ، اس کی ذاتی کمزوریاں اور بشری تقاضے، بعض اوقات ایسا کرتے ہیں کہ ہر وقت وہ ماموروں کی صحبت میں نہیں رہ سکتا۔ اور وہ فیض اور فضل جوان کی پاک صحبت میں ملتا ہے وہ اسے ان شرائط اور لوازمات کے ساتھ جو خاص صحبت ہی سے مختص ہیں نہیں پاسکتا۔ اس لئے ایک اور ضرورت پیش آئی۔ وہ ضرورت ہے تفقہ فی الدین کی ۔ تفقہ فی الدین کے لئے پھر یہ حکم صادر ہوا کہ وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ - یعنی چونکہ یہ تو ممکن نہیں ہے اور نہ مناسب ہی ہے کہ سب کے سب مسلمان یک دفعہ ہی نکل جاویں۔ اس لئے کیوں ہر گروہ سے ایک جماعت اس مقصد اور غرض کے لئے نہ نکلے کہ وہ تفقہ فی الدین کرے اور جب وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ کر واپس آئیں تو اپنی قوم کو ڈرائیں تا کہ وہ قوم بڑی باتوں سے بچے۔ اس آیت سے پہلی آیت میں انفاق کے فضائل بیان ہوئے ہیں۔ اس واسطے کہ اس آیت میں جو ابھی میں نے پڑھی ہے انفاق کی ایک ضرورت بھی پیش ہوئی ہے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۶ مورخه ۱۷ رفروری ۱۹۰۴ صفحه ۸ ) چونکہ یہ امر تو ہو ہی نہیں سکتا کہ کل مومن علوم حقہ کی تعلیم اور اشاعت میں نکل کھڑے ہوں۔ اس لئے ایسا ہونا چاہیے کہ ہر طبقہ اور ہر گروہ میں سے ایک ایک آدمی ایسا ہو جو علوم دین حاصل کرے اور پھر اپنی قوم میں واپس جاکر ان کو حقائق دین سے آگاہ کرے تا کہ ان میں خوف وخشیت پیدا ہو۔ پس قرآن کریم نے جب ایک بہترین راہ ہمارے لئے کھول دی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ باوے؟ (الحاکم ۶ اس کو ہی دستور العمل بنا یا نہ جاوے؟ الحکم جلد ۸ نمبر ۶ مورخه ۱۷ رفروری ۱۹۰۴ء صفحه ۹) عام طور پر کل انسان ایک امام کے حضور جمع نہیں ہو سکتے۔ کل دنیا نہ تو متفق ہی ہو سکتی ہے نہ وہ میں ہی ہوتی ہے نہ وہ ایک جگہ جمع ہو سکتی ہے۔ ملک کی طبعی تقسیم اور پھر کل دنیا کی طبعی تقسیم اس امر کی شاہد ہے۔ اس عام نظارہ