حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 87 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 87

حقائق الفرقان ۸۷ سُورَةُ آل عِمْرَان اول - إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبْرَكًا وَهُدًى لِلْعَلَمِينَ فِيهِ أَيْتُ بينت ( پھر ان آیات بینات کا بیان کیا ہے جیسے فرمایا ) مَقَامُ ابْراهِيمَ ، وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ أَمِنَّا وَ لِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۔۔۔۔۔ اول یہ کہ مکہ مقام ابراہیم ہے۔ دوم اس میں داخل ہونے والوں کے لئے امن ہے۔ سوم اس کا حج کرنا لوگوں کے ذمہ لگایا ہے۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲، ۳) کل دنیا کی ترقی کا مدار قومی اجتماع پر ہے ۔ تمام مہذب بلا د میں جب تہذیب شروع ہوئی اُس وقت بھی یہی کلب و انجمنیں بنیں ۔ حضور علیہ السلام کے دین میں اللہ تعالیٰ نے قومی اجتماع کے عجیب و غریب سامان تجویز فرمائے اور ایسے روحانی محرک اُن میں رکھے جس کے باعث ان انجمنوں کے برہم ہونے کا خطرہ نہ رہا۔ اہل محلہ کے روزانہ اجتماع کے لئے پانچ وقت کی جماعت کو واجب کیا۔ رات کو سب لوگ اپنے گھروں میں سوتے ہیں۔ شبینہ واقعات میں اگر ہمدردی کی ضرورت ہے تو علی الصباح نماز فجر کی جماعت میں یہ امر حاصل ہے۔ اب بازار کی آمد و رفت شروع ہوئی۔ مختلف معاملات خارجیہ پیش آئے تو دو پہر کے بعد جماعت کا وقت آ گیا۔ عصر روزانہ اوقات کا اختتام ہے اور ابھی اہل تجارت و حرفہ غالب عمرانات میں گھر نہیں پہنچے۔ عین اس وقت کے معاملات پر اگر ہمدردی کی ضرورت ہے تو عصر کی جماعت کا عمدہ موقع ہے۔ شام کو گھر پہنچے وہاں کے نئے معاملات جو غیبو بت میں ہوئے اگر باعث اجتماع ہیں تو جماعت نماز شام اس کے لئے موزوں ہے۔ ۹، ۱۰ بجے رات کو الگ الگ ہونے کا وقت آ گیا۔ مناسب ہے سب آپس میں الوداعی رخصت کر لیں اور یہی عشاء کا وقت ہے۔ اس روزانہ پانچ وقت کے اجتماع میں اگر تمام اہلِ بلاد کو تکلیف دی جاوے تو ایک قسم کی تکلیف مالا طاق ہے اس لئے تمام شہر کے اہل اسلام کے واسطے ہفتے میں ایک دن جمعے کا اس اجتماع کے لئے تجویز ہوا۔ لاکن اس اجتماع کے لئے حفظ صحت کے سامان کے واسطے نہانا، کپڑے بدلنا ، صفائی ایک ضروری امر تھا۔ بنابراں اس کا وقت قریب نصف النہار تجویز کیا گیا اور اس میں موسیٰ والی تشدید کہ سبت میں کام کرنے والے کو جلا دیا