حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 81
حقائق الفرقان M سُورَةُ آل عِمْرَان یہی معنے ہیں کہ وہ جو پہلے تو بہ کی ہوئی تھی جب اسے توڑ دیا تو قبولیت کیسی؟ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۵ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۹ ء صفحه ۶۴) ۹۲ - إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَ مَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِّلْ الْأَرْضِ ذَهَبًا وَ لَوِ افْتَدَى بِهِ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا لَهُمْ مِّنْ تصِرِينَ - ترجمہ اور جو لوگ منکر ہو گئے اور وہ منکر ہی مر گئے تو ایسے کسی ایک کا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگر زمین بھر کر سونا بھی دیں معاوضہ میں ، یہی لوگ ہیں جن کے لئے ٹیس دینے والا عذاب ہے اور ان کا کوئی بھی حامی اور مددگار نہ ہوگا۔ تفسیر و تو افتدی ہے ۔ ہدیہ تو قبول نہیں تھا مگر فد یہ بھی نہ ہوگا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۵ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۹ ء صفحه ۶۴) ۹۳- لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللهَ بِهِ عَلِيمٌ - ترجمہ کبھی تم نیکی ( کے درجے ) نہیں لے سکتے جب تک تم پیاری چیزیں خرچ نہ کرو اللہ کی رضا کے لئے اور تم کچھ بھی خرچ کرو بے شک اللہ اس کو بخوبی جانتا ہے۔ تفسیر - لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ - قرآن کریم سورہ بقرۃ میں جہاں پہلا رکوع شروع ہوتا ہے وہاں متقی کی نسبت فرمایا ہے وَمِمَّا رَزَقُتُهُمْ يُنْفِقُونَ یعنی جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں ۔ یہ تو پہلے رکوع کا ذکر ہے ۔ پھر اسی سورۃ میں کئی جگہ انفاق فی سبیل اللہ کی بڑی بڑی تاکیدیں آئی ہیں ۔ ۵ رکوع میں اس قدر بیان ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی کیا وعظ کر سکتا ہے۔ انسان دُکھوں کے وقت تو اتفاق پر مجبور ہوتا ہے مگر حقیقی دینا تو وہ دینا ہے جو خوشدلی سے دیا جاوے ۔ یہود کی نسبت فرمایا ہے فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِنْ الْأَرْضِ ذَهَبًا وَ لَوِ افْتَدَى بِهِ