حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 79
حقائق الفرقان ۷۹ سُورَةُ آل عِمْرَان اگلی کتب سے بیان کرتا ہے مگر ورس اور باب کا حوالہ نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت عمدہ جواب سمجھایا۔ میں نے وقفہ دے کر ایک انجیل ہاتھ میں لی اور کہا کہ اس میں مسیح کی نسبت بعض پیشگوئیاں عہد نامہ عتیق سے دی گئی ہیں مگر باب اور درس کا ذکر نہیں ۔ اسے خدا جانے اپنی بات یاد نہ رہی ۔ کہنے لگا باب اور ورس تو چودھویں صدی کے بعد بنے ہیں ۔ اس پر میں نے اُسے کہا کہ ذرا ہوش میں آؤ ۔ قرآن شریف نے بھی اس وقت ان پیشگوئیوں کے حوالے دیتے ہیں جب کہ یہ باب و ورس نہیں تھے۔ وہ بہت ہی شرمندہ ہوا۔ ایک عیسائی عورت سے میں نے پوچھا کہ وہ ناصری کہلائے گا۔ توریت میں کہاں موجود ہے وہ کہنے لگی تو رات میں تو کہیں ہے نہیں۔ میں نے کہا تم پھر اس مذہب کی پابند کس طرح ہو۔ کہنے لگی میرا خاوند پادری ہے۔ میثاق النبین کی نسبت کہا جاتا ہے کہ یہاں کل نبی مراد ہیں چنانچہ اعمال باب ۳ آیت ۲۱ میں ہے کہ نبیوں نے اس بات کی دعا کی ہے تا تازگی بخش ایام آئیں اور ضرور ہے کہ آسمان اسے روکے رہے جب تک کہ وہ جو تمام نبیوں نے کہا پورا ہو اور موسیٰ کے مثیل نبی آئے۔ اس کے دو بڑے فائدے ہیں۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ موسیٰ کے مثیل مسیح تھے ان سے ہم کہتے ہیں کہ بقول تمہارے مسیح تو خدا تھا پس خدا کو موسٹی سے کیا مثلیت ہو سکتی ہے؟ دوم مسیح کو وہ کامیابی کب ہے جو موسیٰ" کو ہوئی۔ پھر لکھا ہے یہ پیشگوئی پوری ہونے کے بعد آئے گا۔ یوحنا کی انجیل باب امیں لکھا ہے کیا تو وہ نبی ہے۔ وہ نبی 66 سے مراد بعض عیسائی دجال لیتے ہیں مگر ان کے ریفرنس والوں نے استثناء کے باب کا حوالہ دیا ہے جس میں موسی کے مثیل نبی ہونے کا ذکر ہے اور استثناء باب ۳۳ میں لکھا ہے کہ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ۔ چنانچہ دس ہزار صحابی رسول علیہ السّلام کے ساتھ تھے جب آپ مکہ میں مظفر و منصور داخل ہوئے۔ غرض استثناء باب ۱۸ ۔ باب ۳۳۔ یوحنا باب اوّل ۔ اعمال باب سوم کے علاوہ یسعیاہ نبی کی کتاب میں سلا کا نام مذکور ہے اور یہ پہاڑی مدینہ میں ہے کہ وَمَا نَرَى مِنْ وَرَاء سِلًا مِنْ سَحَابٍ ! ۴۲ - ۵۴ یسعیاہ میں مینڈھے بکریوں کی قربانیوں کا ذکر ہے حالانکہ مسیح کے بعد کوئی قربانی نہیں ۔ اے سلا کے پیچھے ہم کوئی بادل نہیں دیکھتے۔