حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 71
حقائق الفرقان ال سُورَةُ آل عِمْرَان أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللہ کے ماننے والوں کو ہم کہتے ہیں کہ ایک خدا میں آپ نے کیا کمی دیکھی ہے جو دوسرے کو بھی اس کے ساتھ ملایا ہے۔ جس میں کمی ہے وہ الوہیت کا مستحق نہیں ہو سکتا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۵ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۹ ء صفحه ۶۲) ٦٦ - يَأَهْلَ الْكِتَبِ لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَ مَا أُنْزِلَتِ التَّوْرَيةُ وَ الانْجِيلُ الَّا مِنْ بَعْدِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ - ترجمہ ۔ اے اہل کتاب تم کیوں حجتیں کرتے ہو ابراہیم کے مقدمہ میں حالانکہ تورات وانجیل تو اس کے بعد اُتری ہیں تو کیا تم کو کچھ بھی عقل نہیں ۔ تفسیر يَاهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَاجُّونَ کبھی تو جوش میں آ کر کہتے ہیں کہ تو رات کی پہلی کتاب سے تثلیث نکلتی ہے۔ وہاں الوہیم آیا ہے۔ پھر دانیال اور ابراہیم کو بھی تثلیث ماننے والا بتاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ استنباط تم کرتے ہو تو رات سے۔ یہ دونوں ابراہیم کے بعد نازل ہوئیں ۔ کسی مذہب نے اپنا کوئی نام نہیں رکھا۔ یہودا کی طرف منسوب ہو کر یہودی کہلائے اور مسیح کی طرف منسوب ہو کر مسیحی ۔ اصل میں ایک ہی نام کل مذہبوں کا ہو سکتا ہے۔ وہ کیا؟ وہی جو مذاہب کا مقصد ہے یعنی راست بازی اور فرمانبرداری ۔ یعنی اسلام - جس کی تعلیم میں کسی قسم کا شرک نہیں بلکہ عین فطرت کے مطابق ہے۔ بچہ جس وقت بالغ ہوتا ہے تو کم از کم اتنی سمجھ تو اسے آ جاتی ہے کہ میں اپنا خالق آپ نہیں بلکہ کوئی اور مقتدرہستی ہے۔ پس یہی وہ فطرت کی گواہی ہے جس سے شرک کا استیصال ہو (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۵ مورخه ۲۴ رجون ۱۹۰۹ ء صفحہ ۶۲ ، ۶۳ ) جاتا ہے۔ ١٩ - إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهُذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ترجمہ ۔ بے شک ابراہیم سے بہت ہی ملتا جلتا لوگوں میں وہ ہے جو اس کی چال چلے اور خاص کر یہ نبی اور ایمان دار لوگ اور اللہ دوست ہے سب ایمان داروں کا۔ تفسیر وَاللهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ - ولی معمولی لفظ نہیں ۔ قرآن شریف نے اس کی تفسیر بتائی