حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 70
حقائق الفرقان ۷۰ سُورَةُ آل عِمْرَان چاہیے جو کوئی نہیں۔ پس تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ - ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۵ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۹ء صفحه ۶۲) ایک دوست نے مجھے قرآن مجید کا ایک ترجمہ دیا اس پر لکھا تھا الہامی ترجمہ ۔ مجھے یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوا اور مجھ کو ہمیشہ دکھ ہوتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ پاک لفظ کو گندے معنوں میں لے لیتے ہیں ۔ مثلاً کلمہ تمام لڑکوں کو پڑھایا جاتا ہے کہ کلمہ لفظ مفرد کو کہتے ہیں ۔ حالانکہ کلمہ کی یہ تعریف قرآن مجید کے خلاف ہے ۔ تمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَ عَدْلًا (الانعام: ۱۱۶) پھر کیا عدم صداقت عدم عدل کبھی کلمہ کی تعریف ہو سکتی ہے؟ کبھی نہیں۔ کلمہ کے معنی أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَ آلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ یہاں غالباً مسلمان ہی بیٹھے ہیں ابھی ایک نام دھاری مرید بھی بیٹھے ہیں۔ انہیں حضرت صاحب سے اور ہم سے اور ہمارے سلسلہ کے ساتھ بھی بڑی محبت ہے غرض سب مسلمان جانتے ہیں کہ لا إلهَ إِلَّا الله محَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کو کلمہ کہتے ہیں۔ مگر اب اس لفظ کے معنی بگاڑ کر لفظ مفرد کا نام کلمہ رکھ دیا جو صحیح نہیں۔ اسی طرح پر بہت سے لفظ بگڑ گئے اور ان کے شرعی معنی چھوڑ دیئے گئے ۔ جن کو سن کر اور دیکھ کر مجھے بڑا دکھ ہوتا ہے۔ الحکم جلد ۱۶ نمبر ۲ مورخه ۱۴ جنوری ۱۹۱۲ صفحه (۴) وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ - تین قسم کے معبود ہیں ۔ ایک تو پوپ کو بھی خدا سمجھئے۔ اس کے اختیارات میں معاصی کی مغفرت کا اعتقاد تھا۔ پوپ ایک زمانہ میں بادشاہ بھی تھا۔ ایک گروہ مریم کو خداوند کی ماں کہتا اور اس کی تصویر کے آگے سجدہ کرتا ہے۔ ایک روح القدس۔ باپ۔ تینوں کو خدا سمجھتا ہے۔ فرمایا بہتوں کا نو کر اچھا نہیں ہوتا ۔ أَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ (يوسف : ۴۰) پنجابیوں نے اس نکتہ کو خوب سمجھا ہے ۔ ان میں ایک مثل ہے۔ دو گھروں کا مہمان بھوکا رہتا ہے۔ لے اور تیرے رب کی بات پوری ہے سچائی اور انصاف میں ۔ ۲۔ سب سے سچی بات جو اس نے کہی (وہ یہ ہے ) اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے ، مٹ جانے والی ہے۔ (ناشر) سے کیا کئی معبود الگ الگ اچھے یا اکیلا زبردست اللہ اچھا۔ (ناشر)