حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 69 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 69

حقائق الفرقان ५१ سُورَةُ آل عِمْرَان خدا ہی کے ماننے کا ہے اس سے باقی مسئلے نکلتے ہیں ۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ بت پرستی کو کہاں تک قدامت رکھتی ہے۔ اس نے کہا کچھ بھی ہو اسلام سے تو پہلے کی ہے۔ اسلام کو ابھی بارہ سو سال ہوئے ہیں۔ میں نے کہا اسلام تو فَبِهَا لَهُمُ اقْتَدِهُ (الانعام:۹۱) کہہ کر اپنے تئیں قدامت سے وابستہ کرتا ہے۔ آپ فرمائیں کہ بت پرستی کب سے ہے؟ رام چندر جی کے زمانہ سے مان لیتے ہیں ۔ پس رام چندر دیوتا کی پرستش کرتے تھے۔ اس نے کہا وشنو کی میں نے کہا اور وشنو ؟ کہا برہما کی میں نے کہا اور برہما؟ کہا ایشور کی۔ اس پر میں نے کہا بس وہ مسلمان تھے۔ یہی مسلمانوں کا مذہب ہے۔ اسلام کا اہم مسئلہ یہی لا اله الا اللہ ہی تو ہے ۔ یہاں ان آیات میں عیسائیوں سے بحث ہے۔ عیسائیوں کی پرانی کتاب تو تو رات ہے اور اس میں تثلیث وغیرہ کا ذکر نہیں ۔ میں نے ایک دفعہ ایک عیسائی سے کہا تمہارے اعمال میں یہ پیشگوئی ہمارے نبی کے حق میں ملتی ہے۔ اس نے کہا کہ بے انصافی کرتے ہو۔ یورپ و امریکہ کے لوگ یہ معنے نہیں کرتے۔ آپ کیوں ان کے خلاف معنے کرتے ہیں؟ میں نے کہا یہ قاعدہ تو آپ نے خود ہی تو ڑا۔ جو معنے تو رات کی پیشگوئیوں کے یہود کرتے ہیں وہ آپ کیوں نہیں کرتے؟ حالانکہ تو رات کے وارث وہی ہیں۔جس قدر مسیح کی الوہیت کے دلائل آپ کے پاس ہیں ذرا انہیں یہودیوں کی تصریح کے مطابق صحیح تو کر دیں۔ اس پر وہ جوش میں آکر بولا ۔ وہ بے ایمان ہیں۔ میں نے کہا ہم آپ کو بے ایمان سمجھتے ہیں ۔ یہاں فرمایا کہ یسوع کو خالق ارض و سماء وغیرہ کہنا تو اس زمانے کی باتیں ہیں۔ آؤ۔ اس اصل کی طرف چلیں جو سب سے پہلے ہے یعنی توحید۔ اس پر ایمان رکھیں ۔ یہ بات یاد رکھیں کہ عیسائی مذہب کی کسی کتاب میں عیسی نہیں آیا۔ اسی لئے ان کے سمجھدار لوگ عیسائی نہیں بلکہ مسیحی کہلاتے ہیں۔ کوئی شخص یسوعا نام ہوا ہے جس کا مسلمانوں کی کتابوں میں ذکر تک نہیں۔ اس کی یہ لوگ پرستش کرتے ہیں۔ باقی رہا مسیح سو اس کا آدم ہونا تو مشاہدات سے ثابت ہے۔ اس کے خدا ہونے کی کوئی حجت نیرہ لے تو انہیں کے سیدھے راستہ کی پیروی کر۔ (ناشر)