حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 68 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 68

حقائق الفرقان ۶۸ سُورَةُ آل عِمْرَان ۶۵ - قُلْ يَاهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا إِلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمُ الَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَ لَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ - ترجمہ۔ اے محمد کہہ دے کہ اے کتاب والو چلے آؤ ایک بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے میں برابر ہے یہ کہ ہم کسی کی بھی عبادت نہ کریں اللہ کے سوا اور اس کا برابر نہ سمجھیں اور شریک نہ ٹھہرائیں ہم کسی کو اور نہ بنائیں : کو اور نہ بنائیں ہم کسی کو پالنے والا پھر اگر وہ پیٹھ پھیر د وہ پیٹھ پھیر دیں تو تم لوگ کہو کہ اے اہل کتاب تم گواہ رہو اس بات کے کہ ہم تو اللہ کے پورے فرمان بردار ہو چکے۔ تفسیر۔ تو کہہ دے او کتاب والو! آؤ ایسی۔ ب والو! آؤ ایسی بات کی طرف کہ ہمارے اور تمہارے درمیان ایک ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے فرمانبردار نہ بنیں اور شریک نہ کریں اس کے ساتھ کسی چیز کو اور نہ بنا لے بعض ہمارا بعض کو رب کہ خدا کی طرح اس کی فرمانبرداری اپنے ذمہ واجب جانے ۔ اگر اس مسلم الطرفین بات کو بھی نہ مان تو کہہ دو گواہ رہو ہم تو اللہ کے فرمانبردار ہیں۔ مسلمان ہیں ۔ ابطال الوہیت مسیح - تصانیف - تصانیف حضرت خلیفة المسیح الاوّل ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ (۶۱) لیمسیح تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمُ ۔ مذہبوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جُوں جُوں پیچھے چلے جائیں تو شرک ، بت پرستی کا مرض کم ہوتا جاتا ہے۔ ایک رئیس تھا اس کی عادت تھی کہ وہ مباحثات کیا کرتا تھا۔ مجھے ایک دفعہ اس نے کہا کہ کوئی معیار مذہبوں کی پہچان کا ضرور چاہیے وہ معیار جب تک قائم نہ ہو جھگڑے ختم نہیں ہو سکتے ۔ چونکہ یہ میرا یقین ہے کہ حق بات ضرور فطرت بے ساختہ بول اٹھتی ہے اس لئے میں نے کہا حضور ہمارے آقا ہیں ۔ ہماری عقلیں اور عزتیں ایسی نہیں کہ ہمارے قائم کردہ معیار کی عزت آپ کے دل میں بیٹھ سکے اس لئے آپ خود ہی تجویز فرماویں آپ جو معیار قائم کریں گے لا محالہ وہ قابلِ قدر ہوگا۔ یہ مجھے یقین تھا کہ اگر اس نے غلط معیار قائم کر کے کوئی الجھن ڈالی تو فطرت کی آواز سے اسے سلجھا لیا جاوے گا۔ اس نے کہا مذہب کا پراچین ہوتا یعنی جس قدر قدیم کی طرف چلے جاویں۔ جو سب سے قدیم ثابت ہو وہی مذہب حق ہے۔ میں نے کہا بڑا مسئلہ تو ا