حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 60 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 60

حقائق الفرقان ۶۰ سُورَةُ آل عِمْرَان یہ ٹھیک دلیل یا بات ہے تیرے رب کی طرف سے ( کہ حضرت مسیح میں بشریت سے بڑھ کر کوئی بات نہ تھی۔ معجزے ، عجائبات ، عمدہ تعلیم یہ باتیں انبیاء میں ہوا کرتی ہیں حالانکہ وہ بشر ہوا کرتے ہیں ) پھر کبھی نہ ہوگا تو او مخاطب ! یا کبھی نہ رہیو شک کرنے والا ۔ ابطال الوہیت مسیح - تصانیف الوہیت سیح - تصانیف حضرت خلیفة اتحا مسیح الاوّل ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۶۱ ) اس سورۃ مبارکہ کا نام ال عمران ہے۔ وجہ تسمیہ اس کی اس نام کے ساتھ یہی ہے کہ اس سورۃ متبرکہ میں ال عمران کا اصطفا قریب اسی آیتوں میں بیان فرمایا گیا ہے اور جو نزاع اور اختلاف درمیان اہل کتاب یہود اور نصاری کے واقع تھے ان کا فیصلہ مسلمات اہل کتاب سے بدلائل بینہ کیا گیا اور حق الامر کے دلائل دیتے ہوئے استدلال کا وہ اسلوب حسن اختیار کیا گیا ہے کہ آئندہ زمانوں میں قیامت تک جو نزاع درباره آل عمران یعنی حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ کے واقع ہو اس کا فیصلہ بھی انہیں دلائل مندرجہ آیات سے بخوبی ہو سکتا ہے۔ فَالْحَمْدُ للهِ ۔ ان آیات سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی کی نسبت یہ وعدہ فرمایا ہے کہ تم کو صلیب کی موت سے جو بموجب حکم تو رات کے لعنتی موت ہے بچایا جاوے گا اور تمہاری موت تَوَفِّی کی موت ہوگی جس میں تم کو رفع الی اللہ یعنی قرب الہی حاصل ہو گا اور منکرین کے الزامات بیجا سے تم کو پاک کیا جاوے گا اور تمہارے مخالفین کا فرین کو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی عذاب شدید کے ساتھ معذب کیا جاوے گا اور تمہارے موافقین مومنین اور متبعین کو مانند تمہارے رفع اور فوقیت مخالفین کا فرین پر عطا کی جاوے گی۔ جس طرح پر کہ حضرت آدم کو یہ مراتب بشری یا اصطفا کے ہماری طرف سے عنایت ہوئے تھے اسی طرح تم کو بھی حاصل ہوں گے وغیرہ وغیرہ جو اوپر کی آیات میں مفصلاً مذکور ہے۔ اب ان آیات میں فرمایا جاتا ہے کہ یہ سب ادلہ اور جملہ امور جو حضرت عیسی کے بارہ میں مذکور کئے گئے حق اور ثابت شدہ صداقتیں ہیں تیرے رب کی طرف سے جو تیری تربیت کا ذمہ وار اور تعلیم کنہ اشیاء کا متکفل ہے۔ اس لئے شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔