حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 57
حقائق الفرقان ۵۷ سُورَةُ آل عِمْرَان واضح ہے کہ عام بول چال میں ہر ایک شخص جانتا ہے کہ متوفی مردہ کو کہتے ہیں۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۳۲، ۲۳۳) جب کہا اللہ نے او عیسی ! بے شک میں تجھے پورا اجر دینے والا یا مارنے والا ہوں اور اپنی طرف بلند کرنے والا اور ان منکروں سے پاک وصاف کرنے والا ہوں اور کرتا رہوں گا تیرے اتباع کو تیرے منکروں کے اوپر قیامت تک۔ پھر اور اتباع کا دعوی کرنے والو! تم سب کا مقدمہ میرے پیش ہوگا اور میں حکم کروں گا اور تمہارے درمیان فیصلہ کردوں گا اس مسئلہ میں جس میں تم کو باہم اختلاف ہے۔ مسیح علیہ السلام کی اتباع کے مدعی یا اہلِ اسلام ہیں یا عیسائی اور آپ کے منکروں میں اوّل درجہ کے منکر یہود ہیں جن کا اصلی ملک کنعان ہے اور جن کا کعبہ یروشلم ۔ دوم درجہ پر آپ کے منکر مجوسی اور تیسرے درجہ پر مجوس الہند ۔ اعلیٰ اتباع اعلیٰ منکروں پر حکمران اور ادنی درجہ کے اتباع ادنی منکروں پر حکمران ہو رہے ہیں ۔ لاکن تیرے منکروں کو تو سخت عذاب دوں گا دنیا اور آخرت میں اور کوئی سلطنت ان کی حامی نہ ہو گی بلکہ ان کا کوئی حامی نہ ہوگا ۔ اور مومن اور جنہوں نے اچھے اعمال کئے پس ان کو پورا اجر ملے گا اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ ( ابطال الوہیت مسیح۔ تصانیف حضرت خلیفہ المسح الاول کمپوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۶۰) ۶۰۰۵۹ - ذلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الْآيَتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ - إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ - ترجمہ یہ جو ہم تجھ کو پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں آیتوں سے اور حکمتوں سے بھرا ہوا یادگار ہے ۔ عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کے جیسی ہے کہ اس کو مٹی سے بنا یا پھر اُس کو کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔ تفسیر - من الایت ۔ یہ بات نشانوں میں سے ایک بھاری نشان ہے۔ یہاں تک تو منکر ان مسیح کا فیصلہ کیا کیونکہ کفَرُوا سے مراد مسیح کے کافر ہیں ۔ اب سچے اور جھوٹے متبع کا فرق بتلاتا ہے۔ مسلمان کہتے ہیں ہم مسیح کے سچے پیرو ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ ہم ۔ فرمایا إِنَّ مَثَلَ عِيسَی عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ ادَم عیسی کی مثال آدم کی مانند ہے۔ اس کو ہم نے تراب سے پیدا کیا پھر وہ مر گیا اور مرنے