حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 56
حقائق الفرقان ۵۶ سُورَةُ آل عِمْرَان منکر یا یہود ہیں اور تھے یا اس انڈیا میں آریہ اور مختلف بلاد میں کچھ پارسی اور کچھ بدھ۔ یہ تمام منکر قومیں حضرت مسیح علیہ السلام کے اتباع کے ماتحت ہیں اور ہمیشہ ماتحت رہیں گی اور یہ پیشین گوئی قیامت تک ثابت اور استحکام کے ساتھ ظاہر رہ کر قاتل کے واسطے آیت صداقت اور نشانِ نبوت رہے گی۔ کیا جس کتاب میں اس پیشین گوئی کا تذکرہ ہے اور جس کتاب میں اس پیشین گوئی کا دعوی اس طرح پر ہے کہ قیامت تک اسی طرح رہے گی وہ کتاب ایسے علیم وخبیر کی نہیں جو جزئیات اور کلیات پر محیط اور ان پر یہ تفصیل واقف ہے؟ ( تصدیق براہین احمدیہ ۔ کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن صفحہ ۸،۷) ن پر ہی واقف ہے؟ غور کرو یہ کیسی عظیم الشان اور صادق پیشگوئی ہے کہ مسیح کے اتباع ہمیشہ مسیح کے منکروں پر غالب اور فوق رہیں گے۔ اس کی تصدیق کے لئے دیکھ لو کہ ایک طرف مسلمان یہود کے اصلی مرکز سنٹر بیت المقدس پر قابض ہیں۔ یہود اصلی منکر اور مسلمان اصلی پیروان مسیح ہیں دوسری طرف آریہ ورتی عارضی منکروں پر عارضی اتباع نصاری حکمران ہیں اور یوں ہی ہمیشہ رہے گا۔ ممکن ہے کہ جملہ رَافِعُكَ اِلی کو نہ سمجھ کر تم ضلالت کے گڑھے میں گرے ہو۔ سو یا د رکھو اس کی تصریح بَلْ رَفَعَهُ اللهُ ( النساء ۲۷) نے کر دی ہے جو قرآن کریم کی دوسری جگہ میں ہے۔ اس کے معنی ہیں اللہ نے اُسے رفعت اور بلندی بخشی یعنی جسے خدا بلند اور رفع کرنا چاہے اور کر دے کوئی دشمن اسے گرا نہیں سکتا۔ چنانچہ خدا نے یہود کے گندے اور ذلیل منصوبوں سے اسے بچایا اور رفعت دی۔ یہی وحی خدا تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ السّلام کو بھی ایک عرصہ سے ہو چکی ہے اور براہین احمدیہ میں موجود ہے اور وہ یہ ہے يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ ۔ اس نمونہ سے جو ہمارے زمانہ کے راستباز سے ظاہر ہے خدا کی واقعی وحی کا پتہ لگ سکتا ہے اس لئے کہ جو وعدہ تطہیر اور رفع اور توفی اور فوق کا حضرت مسیح کو دیا گیا تھا وہی ہمارے آقا حضرت مسیح موعود کو دیا گیا ہے۔ آپ کے حالات و واقعات بڑی بھاری چابی ہیں گذشتہ حالات کے قفلوں کے لئے اور پھر بڑا قابل غور لفظ تو فھی ہے۔ یہ بھی ایسا صاف اور لے کچھ بدھ اور اور قو میں مسیح علیہ السلام سے ابھی ناواقف ہیں اور ان کے پورے منکر نہیں ہوئے ہیں یادر ہے۔ (ناشر)