حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 52
حقائق الفرقان ۵۲ سُورَةُ آل عِمْرَان کیا۔ پس اس سے یہ مطلب ہوا کہ عیسی حرام و حلال بیان کرتے ہیں۔ دوسرے معنے یہ ہوئے کہ ہر نبی اپنی قوم کو اعلیٰ معراج پر پہنچانا چاہتا ہے۔ یہودیوں پر ذلت و مسکنت لیس دی گئی تھی ۔ ان کے لئے طیبات جو مال غنیمت اور سلطنت کے انعامات کے رنگ میں تھے بوجہ ان کی بداعمالی کے حرام کر دیئے گئے تھے ۔ یعنی وہ ان سے محروم ہو گئے تھے۔ اب عیسی کہتے ہیں میری پیروی کرو یہ سب انعامات جن سے تم محروم ہو تمہارے لئے حلال کر دیں گے ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۳، ۳۴ مورخہ ۱۷ رجون ۱۹۰۹ ء صفحہ ۶۰) ۵۳ - فَلَمَّا اَحَسَّ عِيسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللهِ آمَنَّا بِاللَّهِ ۚ وَاشْهَدُ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ - ترجمہ ۔ پھر جب معلوم کر لیا عیسیٰ نے اُن کا انکار اور حق پوشی، کہنے لگا کوئی میرا مددگار اور حامی ہے اللہ کی طرف ہو کر ۔ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے طرف دار ہیں ہم نے اللہ کو مانا ہے او اللہ کو مانا ہے اور تو بھی گواہ رہ کہ ہم فدائی مسلمان ہیں ۔ تفسير مَنْ أَنْصَارِقَى إِلَى اللهِ ۔ اگر کوئی میرے انصار میں سے ہے تو ادھر چلے جدھر میں جا رہا ہوں معنی اللہ کی طرف۔ الحواريون - مفسرین نے لکھا ہے حواری کہتے ہیں دھوبی کو ۔ چونکہ انہوں نے دلوں کو صاف کر دیا تھا اس لئے انہیں دھوبی کہا گیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جو بڑے خلوص سے اپنی جان پر کھیلنے کو تیار ہوں ایسے لوگوں کو حواری کہتے ہیں ۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۵ مورخه ۲۴ رجون ۱۹۰۹ ء صفحه ۶۱ ) ۵۵ - وَ مَكَرُوا وَ مَكَرَ اللهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَكِرِينَ - ترجمہ ۔ انہوں نے عیسی کے مقابلہ میں تدبیریں کیں اور اللہ نے (اس کی نجات کے لئے ) اور اللہ کی تدبیریں خیر وبرکت تدبیریں خیر و برکت سے بھری ہوئی ہیں۔ تفسیر مَكَرُوا ۔ یہ آیت یا درکھنے کے قابل ہے۔ دیکھو اس کی ضمیر بظاہر حواریوں کی طرف پھرتی ہے مگر یہ صحیح نہیں بلکہ ان لوگوں کی طرف راجع ہے جو اَحَشَ عِيسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ (ال عمران: ۵۳)