حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 50
حقائق الفرقان ۵۰ سُورَةُ آل عِمْرَان تیرے رب سے حق ہے برابر ہے اس کے جو اندھا ہے یعنی کلام اللہ کا منکر ۔ پس اس آیت میں یہ فرمایا کہ حضرت مسیح نے کہا میں اپنی تربیت سے ان اندھوں کو راہ حق دکھاتا ہوں اور ان کے روحانی جذام کو درست کرتا ہوں۔ اس سے آگے فرمایا ۔ وَاحْيِ الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللهِ احياء و موتی کا مسئلہ بہت صاف تھا مگر بعض نے اس میں خواہ مخواہ دقت پیدا کر لی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بتا دیا ہے کہ طبعی موت سے مرے ہوئے حقیقی مردے کا رجوع دنیا میں پھر ہر گز نہیں ہوتا اور اللہ کی یہ سنت نہیں فرمایا کہ ایسے مردے کو اِسی دُنیا میں زندہ کرے اور زندہ کرنا اللہ تعالیٰ ہی کا فعل ہے چنانچہ فرمایا آنه محي الموتى (الحج :) اور فرما یا قُلِ اللهُ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ( الجاثية : ۲۷) کہہ دے اللہ ہی زندہ کرے گا تم کو پھر تمہیں موت دے گا اور حضرت ابراہیم اقرار کرتے ہیں رَبِّي الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ (البقرة: ۲۵۹) جس سے یہ قطعی طور سے ثابت ہو گیا کہ احیاء صرف اللہ کا خاصہ ہے پھر مُردوں کے لئے فَيُمْسِكُ الَّتِي قَطَى عَلَيْهَا الْمَوْتُ (الزمر : ۴۳) اور مِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ (المؤمنون: ١٠١) فرما کر اپنی سنت بتادی کہ روح قیامت تک پھر دنیا میں آنے سے رکی رہتی ہے۔ اب اگر حضرت عیسی احي الموتى کا دعوی کرتے ہیں تو اس متشابہ کے معنے ان محکم آیات کے برخلاف نہیں ہو سکتے ۔ جب ہم تدبر کرتے ہیں تو قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے تین قسم کا احیاء ہے۔ ایک احیاء اللہ کا جیسا کہ گزرا (۲) ایک احیاء کفار کا یعنی کا فر بھی کر سکتے ہیں جیسا کہ موسیٰ کے ساحروں کا ذکر ہے۔ فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى ( طه : ۶۷) کہ ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے سحر سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دوڑ رہی ہیں۔ (۳) ایک احیاء پیغمبروں کا جیسا کہ فرمایا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ (الانفال:۲۵) اللہ اور اس کے رسول کی مان لو جب وہ تمہیں زندہ کرنے کے لئے بلائے ۔ مسیح علیہ السلام چونکہ رسول تھے اس لئے ان لے میرا رب وہی ہے جو چلاتا ہے اور مارتا ہے۔ ۲ے پھر ان روحوں کو روک رکھتا ہے جن پر واقعی موت کا حکم جاری کر چکا ہے۔ سے اور ان کے آگے عظیم الشان روک ہے جب تک کہ وہ آخرت میں اٹھائے جائیں ۔ (ناشر)