حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 49 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 49

حقائق الفرقان ۴۹ سُورَةُ آل عِمْرَان اچھا کرتا ہوں ۔ ابرء : جَعَلَهُ بَرِيئًا - تاج العروس میں دیکھ لو۔ چنانچہ فصل الباء من باب الهمزة صفحہ ۴ میں ہے۔ وَأَبْرَكَ اللهُ مِنْهُ أَتَى جَعَلَكَ بَرِيئًا عام مذہبوں میں یہ خیال ہے کہ اندھا جذامی انسان ہے اپنے پچھلے جنم کے افعال و اعمال میں گرفتار ہے۔ حضرت عیسی نے بحکم الہی فرمایا کہ میں ان اندھوں اور جذامیوں کو بری ٹھہراتا ہوں اور قوم میں جو ان کے متعلق پابندیاں تھیں۔ ان کے ساتھ وہ تعلقات قائم نہ کرتے جو دوسرے بھائیوں کے ساتھ تھے وَغَيْرَ ذَلِكَ ان کو اُٹھا دیا۔ ابرص : تاج العروس صفحه ۳۷۳ فصل الباء من الصاد میں لکھا ہے کہ وَهُوَ بَيَاضُ يَظْهَرُ في ظَاهِرِ الْبَدن کے یعنی پھہری۔ اور تاج العروس صفحہ ۴۰۹ فَضْلُ الْكَافِ مِن بَابِ الْهَاءِ میں لکھا ہے کہ صَارَ أَعْشَى وَهُوَ الَّذِي يُبْصِرُ بِالنَّهَارِ وَلَا يُبْصِرُ بِاللَّيْلِ وَ بِهِ فَشَرَ الْبُخَارِيُّ یعنی شب کور ۔ جس سے ظاہر ہے کہ مسیح ابن مریم برص اور شب کوری کے مریضوں کو اپنے دم و دعا سے اچھا کرتے تھے جو اُمت محمدیہ کے افراد بھی کرتے ہیں ) اچھا کرتا ہوں مگر یہ اندھے اور جذامی کیسے ہوں گے اس پر غور کرنے کے لئے قرآن مجید کی دوسری آیتوں کو دیکھنا چاہیے جس سے صاف کھلتا ہے کہ پیغمبر جن اندھوں اور جذامیوں کو اچھا کرتے ہیں وہ روحانی اندھے ہوتے ہیں ۔ مثلاً فرمایا وَ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا (بنی اسرائیل: (۷۳) جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ یہاں متفق طور سے اعلیٰ سے مراد روحانی اندھے ہیں۔ ایسا ہی پہلے پارہ میں صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (البقرة: (۱۹) سے ظاہر ہے کہ پیغمبروں کو جن بہروں، گونگوں اور اندھوں سے سابقہ پڑتا ہے وہ روحانی ہوتے ہیں۔ ایک اور آیت ہے أَفَمَنْ يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَى (الرعد: ۲۰) کیا وہ جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیری طرف اتارا گیا لے اللہ نے تجھے اس سے بری ٹھہرایا ۔ ۲ے بدن کے اوپر ظاہر ہونے والی سفیدی پھلبہری سے آئمہ کے معنی ہیں۔ وہ شب کو ر ہوگا۔ شب کور اسے کہتے ہیں جس کو دن کے وقت نظر آتا ہے اور رات کو کچھ دکھائی نہیں دیتا اور امام بخاری نے اس کی یہی تفسیر کی ہے۔ (ناشر) ۴ اور جو کوئی اس دنیا میں اندھا رہا تو وہ آخرت میں بھی اندھا رہا اور بہت ہی دور بھٹک گیا راہِ راست سے ۔ ۵- بہرے ہیں حق سننے سے ۔ گونگے ہیں (حق بولنے سے ) اندھے ہیں ( حق دیکھنے سے ) وہ پھرنے والے حق کی طرف نہیں۔