حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 48
حقائق الفرقان لد ٧ سُورَةُ آل عِمْرَان ہے نہیں ۔ دوسرے مقام پر فرمایا خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا (الفرقان : ۳) اور خَلَقَ لَكُمْ مَّا في الْأَرْضِ جَمِيعًا (البقرۃ: ۳۰) میں بھی خلق کے معنے اندازہ کے ہیں کیونکہ خلق تو ابد تک جاری ہے۔ پس دوسرا لفظ ہے طنین ۔ آدم کے حق میں اس کے دشمن کی شہادت ہے خَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ یعنی تو نے آدم کو طین سے پیدا کیا ہے۔ طین میں خوبی یہ ہے کہ اسے جس قالب میں ڈھالنا چاہیں ڈھل جاتی ہے اسی لئے وَبَدَءٌ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ طِينٍ فرمایا یعنی آدم کی فطرت ایسی ہے کہ جس طرز میں ڈھالنا چاہیں ڈھل جاتی ہے۔ طیر کا اطلاق بلند پرواز انسان پر ہوتا ہے۔ شہیدوں کے حق میں فرمایا ہے کہ وہ جنت میں سبز پرندوں کی شکل میں ہوں گے اور مجاہدوں کو بھی طیر و فر مایا کہ وہ اُڑ کر موقعہ جنگ پر پہنچتے ہیں ۔ انْفُخُ فِیہ کے معنے کلام الہی سے تربیت کے ہیں چنانچہ قرآن مجید میں فرمایا اِنِّی خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ طِينٍ فَإِذَا سَوَيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ (ص: ۷۲ ، ۷۳) میں طین سے ایک بشر خلق کر کے پھر جب وہ ٹھیک ٹھاک ہو جائے تو میں اس میں کلام الہی نفخ کروں گا پھر سب کے سب اس کے فرمانبردار ہو جائے و جائیں ۔ بِاذْنِ اللہ کے معنے بہ فضل اللہ کے ہوتے ہیں۔ رسول اللہ کا کوئی کام سوا اذن اللہ کے نہیں ہوتا ۔ فرمایا وَ مَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ الله" (النساء: ۶۵) کسی رسول کی اطاعت نہیں ہوتی بجز اللہ کے فضل کے ۔ پس اب معنی صاف ہیں۔ حضرت عیسی فرماتے ہیں میری فرمانبرداری کرو اور ایسے تیار ہو جاؤ جیسے کیچڑ کہ اسے جس طرز میں چاہو کسی شکل میں لایا جا سکتا ہے۔ پھر میں اللہ کے فضل سے کلام الہی کے ساتھ تمہاری تربیت کروں گا اور جب تمہارا عمل درآمد اس کے مطابق ہو گا تو تم بلند پرواز انسان بن جاؤ گے اور روحانیت کے اُوپر پرندے بن کر اڑو گے۔ ابْرِى الْأَكْمَةَ وَالْأَبْرَصَ کے معنے ہیں کہ میں مادر زاد اندھوں اور جزا میوں کو بری ٹھہراتا ہوں یا ا ہاں اس نے سب ہی کو پیدا کیا ہے پھر اس کا بخوبی اندازہ کر دیا ہے۔ ۲ جس نے زمین کی سب کی سب چیزیں تمہارے ہی واسطے پیدا کیں ۔ (ناشر) سے میں بنانے والا ہوں ایک آدمی مٹی سے ۔ پس جب میں اس کو بنا چکوں اور اس میں اپنی وحی پھونکوں تو تم اس کے فرمانبردار ہو جانا۔ (ناشر) ۴ اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی واسطے کہ ان کا کہا مانا جاوے اللہ کے حکم سے ۔ ( ناشر )