حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 47
حقائق الفرقان ۴۷ سُورَةُ آل عِمْرَان (۳۵ کے عقائد کی تائید ہو اور عیسی کی خدائی کا ثبوت ملے۔ سوم - متشابہات کے معنے معلوم کرنے کے لئے دعا کا حکم ہے سو بہت سی دعاؤں کے بعد یہی مجھ پر کھلا ہے کہ خلق اللہ تعالیٰ کی صفت ہے چنانچہ فرماتا ہے أَوَ لَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِى اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُة (العنکبوت: ۲۰) اور سورۃ بروج میں فرمایا إِنَّهَ هُوَ يُبْدِى وَ يُعِيدُ (آیت: ۱۴) اور فرمایا آلا لَهُ الْخَلْقُ (الاعراف: ۵۵) اسی کے شایان ہے پیدا کرنا اور فرمایا اللهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْي ( الزمر : ٦٣) اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور فرما یا قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَابِكُمْ مَنْ يَبْدَوُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ قُلِ اللهُ يَبْدَوُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ (يونس : ۵ اعلان کر دے کیا ہے تمہارے شرکاء سے جو پیدا کرے پھر اسے دُہرائے ۔ کہہ دے اللہ ہی پیدا کرتا ہے پھر لوٹاتا ہے۔ پس تم کہاں بہکے جاتے ہو۔ پھر اَمْ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ خَلَقُوا كَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ (الرعد: ۱۷) فرما کر بتا دیا کہ اللہ کا خلق اور ہے اور مخلوق کا خلق اور ۔ اسی بنا پر اللہ تعالی مشرکوں کو ملزم بناتا ہے۔ کیا شرکاء نے کوئی ایسا خلق کیا جیسا کہ اللہ نے اور پھر خلق میں تشابہ ہو گیا ؟ ہر گز نہیں۔ پس اعلان کر دے کہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہ اکیلاز بر دست حکومت والا ہے۔ کوئی اس کے افعال میں اس کا ثانی نہیں ۔ وہ جیسا خود لیس كمثله شيخ " (الشوری: ۱۲) ہے ایساہی اس کے افعال ۔ الله اب ہم دیکھتے ہیں کہ آیا خلق کسی اور معنے میں بھی لیا جاتا ہے تو قرآن مجید ہی سے اس کی شہادت ملتی ہے کہ خلق بمعنی اندازہ ہے ۔ فَتَبْرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَلِقِينَ (المؤمنون : ۱۵) پس بہت بابرکت ہے اللہ جو بہت عمدہ اندازہ کرنے والا ہے۔ اندازہ کے معنے اس لئے کئے کہ خالق تو بغیر اللہ کے اور کوئی لے کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ کسی طرح اللہ پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو پھر بار بار بناتا ہے اس کو ۔ ۲۔ البتہ وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور بار بار بھی پیدا کرے گا۔ سے یا انہوں نے بنا رکھے ہیں اللہ کے برابر والے ایسے جنہوں نے کچھ پیدا کیا ہے اللہ کے جیسا کہ مشتبہ ہوگئی ہے ان پر دونوں کی پیدائش ۔ تم کہہ دو (نہیں) سب کا خالق اللہ ہی ہے اور وہی اکیلا بڑا غالب ہے۔ ۴۔ اُس کے جیسی تو کوئی بھی چیز نہیں۔ (ناشر) ہے تو کیا ہی بابرکت ہے اللہ کی ذات جو سب تخلیق کرنے والوں سے بہتر ہے۔