حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 44 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 44

حقائق الفرقان ママ سُورَةُ آل عِمْرَان خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا (الفرقان :(۳) میں بتایا ہے کہ خلق کا مرتبہ اندازہ سے بھی پہلے کا ہے ۔ وہ کیا ہے تجویز ! لَكُمْ ۔ تمہاری بھلائی کے لئے ۔ - طين - قرآن مجید میں طین کا دو جگہ ذکر ہے۔ ایک جگہ شیطان کا قول خَلَقْتَنِي مِنْ نَّارٍ وَ خَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ (الاعراف: (۱۳) تراب وماء کے ملنے کو کہتے ہیں لین ۔ کیچڑ جو ہوتا ہے اس میں خاصیت ہے کہ جس رنگ میں چاہیں ڈھال لیں مگر آگ نہیں ڈھل سکتی ۔ یہاں مسیح فرماتے ہیں کہ میں تجویز کر سکتا ہوں مگر اس کے لئے جو طین ہو یعنی کوئی شخص میری تعلیم کو تسلیم کرے اور اپنے میں طین کی صفات رکھے ( جس رنگ میں چاہیں ڈھال سکیں ) ۔ تو وہ يَكُونُ طَيْرًا جناب الہی میں اُڑنے والا ہو جاوے گا۔ طیر کا لفظ مومن کے لئے حدیث میں آیا ہے۔ فَأَنْفُخُ فِيهِہ ۔ میں اس میں کلام کی ایسی روح پھونکوں گا کہ وہ مادہ پرستی سے نکل کر بلند پرواز انسان ہو جائے گا۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۳، ۳۴ مؤرخہ ۱۷ رجون ۱۹۰۹ ء صفحہ ۶۰۰۵۹) حضرت مسیح کے اس قول پر آنِي اخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطين (ال عمران : ۵۰) مجھے یہ سمجھ آئی ہے کہ مسیح علیہ السلام ایک بات کہتے ہیں کہ مِنَ الطين ہو ۔ شیطان اور آدم کے قصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ طینی بنو پھر عرش الہی تک اڑ سکو گے گویا وہ یہ تعلیم دیتے ہیں کہ شیطان کا مظہر نہ بنو۔ شہید بھی طیر ہوتے ہیں گویا اس درجہ تک پہنچ جاؤ کہ شہید ہو سکو۔ (الحکم جلدے نمبر ۱۳ مؤرخه ۰ ار پریل ۱۹۰۳ صفحه ۳) خلق کے معنے پیدا کرنے کے ہیں تو یہ اسلامی عقائد کے خلاف ہے کیونکہ خدا فرماتا ہے هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللهِ (فاطر : ۴) خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ (الانعام : ۱۰۲) خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ (الزمر: ٢٣) لے اس نے سب ہی کو پیدا کیا ہے پھر اس کا بخوبی اندازہ کر دیا ہے ۔ ۲ مجھے پیدا کیا تو نے آگ سے اور اُس کو مٹی سے۔ سے مٹی جس میں پانی ملا ہوا نہ ہو۔ ماء : پانی ۔ مرتب آے مٹی سے تمہارے لئے تجویز کرتا ہوں ۔ ھے کیا کوئی اور پیدا کرنے والا ہے اللہ کے سوائے ۔ 1 اُسی نے پیدا کیا سب چیزوں کو ۔ کے اللہ ہی ہر چیز کا پیدا فرمانے والا ہے ۔ (ناشر)