حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 484 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 484

حقائق الفرقان لد لد سُورَةُ الْأَعْرَاف جو کوئی اس امر کا منکر ہوا اپنا کچھ کھویا کسی کا کیا گیا اب فرمایا جاتا ہے اور اگر ہم چاہتے تو انہیں آیات کی تصدیق کی برکت سے اس کا مرتبہ بلند کرتے مگر اس نے دنیا کی ذلت اور پستی کو اپنے لازم حال کر لیا اور اپنی خواہش نفسانی کے پیچھے لگ گیا تو اس کی مثل کتے کی سی مثل ہے کہ اگر اس پر دوڑ نے جھپٹنے کا بارڈالو تب بھی زبان کو باہر نکال کر ہانپتا رہتا ہے اور اگر اس کو اسی کے حال پر چھوڑ دو تب بھی زبان لڑکائے ہوئے ہانپتا رہتا ہے۔ یہ ہے مثل ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیتوں اور نشانوں کو جھٹلایا۔ تواسے پیغمبر ! یہ قصے بیان کرتے رہوتا کہ یہ لوگ کچھ سمجھیں۔ سوچیں ۔ ان آیات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آیات الہی کی تصدیق کرنا اور ان کے بموجب عملدرآمد کرنا باعث رفع درجات کا ہے اور تکذیب آیات اللہ کی اور ان سے اعراض کرنا موجب ذلت اور پستی کا ہے۔ چونکہ انبیاء آیات اللہ کے مبلغ ہوتے ہیں تو ان کا رفع بطریق اولی ہوا کرتا ہے اور ان کے متبعین کا رفع بہ سبب اتباع مقتضا ان آیات کے ان کو حاصل ہوتا ہے اور ان کے مکذبین کو دنیا اور آخرت میں بجز عذاب شدید کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ چنانچہ یہ تینوں امر اللہ تعالیٰ نے اور تعالیٰ آیت يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ (ال عمران : (۵۲) میں بیان فرما دیئے ہیں ۔ رفع عیسی کا فوقیت متبعین کے کافروں اور مکذبین کو عذاب شدید دنیا اور آخرت میں ۔ اتيْنَاهُ آيَاتِنَا سے معلوم ہوتا ہے کہ بالضرور علم آیات الہیہ اس کو دیا گیا تھا ۔ خواہ وہ آیات اللہ اور حج دربارہ توحید کے ہوں یا اسم اعظم یا الہامات یا اجابت دعا وغیرہ ہو جیسا کہ تفاسیر میں لکھا ہے۔ بہر حال علم الہیات کا بخوبی اس کو حاصل تھا پھر بھی ایک نبی کی مخالفت سے مردود درگاہ ہو گیا۔ قصہ آدم اور ابلیس کا جو متعدد جگہ پر قرآن شریف میں مختلف اسلوبوں سے بیان فرمایا ہے اس کالب اور خلاصہ بھی یہی ہے۔ یہ آیات اہل علم کے لئے بلکہ ان لوگوں کے لئے جو لہم بھی ہیں۔ بڑی عبرت دلانے والی ہیں کہ مامور من اللہ کے مقابلہ اور مخالفت میں جو ان کے الہامات ہوں یا علمی شبہات ہوں ان کا اتباع صرف اتباع ہوا کا ہے لاغیر ۔ کیونکہ ان کے الہامات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حفاظت نہیں ہوتی ہے لے اے عیسیٰ میں تجھے وفات دینے والا ہوں تیری روح قبض کرنے والا ہوں۔