حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 480
حقائق الفرقان وہ سخت گمراہیوں میں سے ہو گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔ لد ٠٧ سُورَةُ الْأَعْرَاف مفسرین میں اس شخص کی نسبت بڑا اختلاف ہے کہ یہ کون شخص تھا۔ شاہ ولی اللہ صاحب لکھتے ہیں کہ یعنی بلعم باعورا کہ کتب النبی خوانده بود بعد ازاں باغوائے زن خود ایذاء حضرت موسیٰ قصد کر دو ملعون شدی تفسیر کبیر میں ہے کہ آنحضرت صلعم کے ابتدائی بعثت کے وقت میں ایک شخص امیہ بن ابی الصلت تھا جس کو کتب سابقہ کے علم سے یہ بات معلوم ہوگئی تھی کہ اس وقت میں ایک رسول عظیم الشان مبعوث ہونے والا ہے اور اس کو یہ گمان بھی تھا کہ وہ رسول میں ہی ہوں گا جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوئی رسالت فرمایا۔ تو اس کو بڑا رشک اور حسد پیدا ہو گیا اور کمبخت کافر ہی مرا۔ یہ شخص وہی امیہ بن ابی الصلت ہے جو عرب میں بڑا مشہور شاعر تھا اور جس کی نسبت آنحضرت صلعم نے ارشاد فرمایا ہے کہ امَن شِعْرُه وَ كَفَرَ قَلْبُهُ (صحیح مسلم ، کتاب الشعر )یعنی شعر تو اس کا ایمان لے آیا تھا ۔ مگر دل اس کا کا فر ہی رہا۔ یہ اس لئے فرمایا کہ یہ شخص اپنے شعروں میں اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کرتا تھا اور توحید الہی کے دلائل بھی دیا کرتا تھا اور بیان اعمال صالحہ اور احوال آخرت یعنی جنت و نار کا ذکر بھی ان شعروں میں کیا کرتا تھا اور بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت ابو عامر راہب کے حق میں نازل ہوئی ہے جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فاسق کا لقب دیا تھا۔ غرضیکہ اس آیت کا مصداق کوئی ہو خواہ بلعم باعور اولی مستجاب الدعوات ہو یا امیہ بن ابی الصلت شاعر موحد ہو یا ابو عامر راہب ہو جس نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے دنیا کو ترک کر دیا تھا یا اور کوئی ہو، بہر حال اس آیت سے صریح یہ امر معلوم ہوتا ہے کہ مامور من اللہ کی مخالفت میں سب مخالف مردود ہو جاتے ہیں ۔ اس کے مقابلہ میں نہ کسی کی ایسی ولایت ہی مقبول ہوتی ہے جو مستجاب الدعوات کے مرتبہ پر پہنچ گئی ہو جیسا کہ بلعم باعورا ولی حضرت موسیٰ کے وقت میں تھا یا کوئی شخص فصیح و بلیغ شاعر ہو جو توحید الہی کو اپنے قصائد اور اشعار میں نظم کرتا ہو مقبول ہو سکتا ہے اور نہ کوئی راہب اور زاہد مخالف مامور من اللہ کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سرسبز ہو سکتا ہے۔ بلکہ مامور من اللہ کا مکذب اور مخالف خائب و خاسر، نامراد اور مردو د درگاہ الہی ہی ہو جاتا ہے جیسا کہ یہ تینوں شخص ا بلعم بعور جو کہ کتاب الہی پڑھا ہوا تھا نے اپنی بیوی کے بہکانے کے باعث حضرت موسیٰ کو تکلیف دینے کا ارادہ کیا اور ملعون ٹھہرا۔