حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 471
حقائق الفرقان ۴۷۱ سُورَةُ الْأَعْرَاف کچھ مدت بعد وہی عمل بتانے والا آیا جس نے آخر مجھ سے استدعا کی کہ مہاراج کے پاس مجھے ساٹھ روپے کا دعا گو ہی بنوا دو۔ حتی کہ پندرہ روپے پر راضی ہو گیا۔ جس سے صاف کھل گیا کہ یہ فرقہ کیسا ذلیل ہے اور یہ راہ منعم علیہم کی نہیں ہے۔ م ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۹ مورخه ۳۰ ستمبر ۱۹۰۹ صفحه ۱۰۹) انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کے لئے یہ ایک مشکل پیش آتی تھی کہ ان میں کوئی خلیفہ اور کوئی یاد دلانے والا نائب نہ ہوتا تھا۔ اس لئے لوگ بے خبر ہو جاتے تھے اور قوم پھر سو جاتی تھی۔ مگر مولی کریم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا دامن چونکہ إِلى يَوْمِ الْقَيِّمَةِ وسیع کر دیا ہے۔ اور آپؐ کا بھی دعوی إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا کا ہے۔ اور ایسی مضبوط کتاب آپ کو عطا فرمائی۔ ممکن تھا کہ لوگ بے خبر رہتے ۔ اس کی حفاظت کا انتظام بھی خود ہی مولیٰ کریم نے فرما دیا۔ جیسے ظاہری حفاظت کے لئے قراء اور حفاظ ہیں ایسے ہی باطنی تعلیم کیلئے ایک سامان مہیا فرما یا ۔۔۔ یا احسان ہے اللہ تعالیٰ کا جو اسلام سے مخصوص ہے۔ کہ بھولی بسری متاع اللہ تعالیٰ جیسا وقت ہوتا ہے اس کے لحاظ سے اس کا یاد دلانے والا بھیج دیتا ہے۔ یہ انعام ہے۔ یہ فضل اور احسان ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کا۔ الحکم جلد ۳ نمبر ۷ مؤرخہ ۳ مارچ ۱۸۹۹ء صفحہ ۴) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن نبوت دیکھو تو قیامت تک وسیع کسی دوسرے نبی کو اس قدر وسیع وقت نہیں ملا۔ یہ کثرت تو بلحاظ زمان ہوئی۔ اور بلحاظ مکان یہ کثرت کہ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا میں ظاہر فرمایا کہ میں سارے جہان کا رسول ہوں ۔ یہ کوثر مکان کے لحاظ سے عطا فرمائی ۔ کوئی آدمی نہیں ہے جو یہ کہہ دے کہ مجھے احکام الہی میں اتباعِ رسالت پناہی کی ضرورت نہیں ۔ کوئی صوفی ، کوئی مست قلندر، بالغ مرد، بالغہ عورت کوئی ہو ۔ اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتے ۔۔ کوئی آدمی مقرب ہو نہیں سکتا جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع نہ کرے۔ (الحکم جلد ۳ نمبر ۷ ۱ مورخه ۱۲ مئی ۱۸۹۹ء صفحہ ۱) آپ کا دا آپ کا دامن نبوت دیکھو تو وہ قیامت تک وسیع ہے کہ اب کوئی نبی نیا ہو یا پرانا آ ہی نہیں سکتا۔ دوسرے یہ بلجان کسی دوسرے نبی کو اس قدر وسیع وقت نہیں ملا۔ یہ کثرت تو بلحاظ زمان کے ہوئی اور بلحاظ مکان یہ