حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 37 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 37

حقائق الفرقان ۳۷ سُورَةُ آل عِمْرَان میں شرارت کی مگر نا کام رہے۔ میں بارہا وَ اتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيْطِينُ ( البقرۃ : ١٠٣) اور مَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ (البقرة : ۱۰۳) کی تفسیر میں یہ سمجھا چکا ہوں کہ کبھی کسی خفیہ کمیٹی مخفی منصوبے میں شامل نہ ہو ۔ یہی پاک تعلیم انبیاء کی ہے کہ ان کی کوئی بات مخفی نہیں ہوتی ۔ ہمارے حضرت صاحب کو اگر کوئی خلوت میں کچھ کہتا تو آپ اتنے زور سے گفتگو کرنے لگتے کہ نیچے گلی میں چلنے والے سن سکتے ۔ ان مخفی کمیٹیوں کی ہزار ہزار صفحے کی کتابیں میں نے پڑھی ہیں۔ یہ مدت سے قائم ہیں مگر حضرت نبی کریم سے لے کر حضرت عثمان تک ان کا نام ونشان نہیں ملتا ۔ یہ ان کا رعب اور ان کی قدرت نمائی تھی کیونکہ خدا نے اعلان کرا دیا تھا وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إلا بِإِذْنِ الله (البقرة : ۱۰۳) میری بڑی عمر ہو گئی ۔ میں بچہ تھا پھر جوان ہوا پھر ادھیٹر پھر بوڑھا مگر میں آج تک کبھی کسی خفیہ محفل یا کمیٹی یا جلسہ میں شامل نہیں ہوا ۔ میرا ایک بہت پیارا دوست شہر میں تھا مگر میں نے اس سے بھی کبھی مخفی ملاقات نہ کی نہ مخفی اس سے گفتگو رکھی ۔ یہ - خدا کا مجھ پر بڑا فضل ہے جو منصو بہ بازوں کو حاصل نہیں ہو سکتا وہ مجھے حاصل ہوا ۔ میں تمہیں کہاں تک سناؤں۔ سناتے سناتے تھک گیا مگر خدا کی نعمتوں کے بیان کرنے سے میں نہیں تھکتا اور نہ مجھے تھکنا چاہیے۔ اس نے مجھ پر بڑے بڑے فضل کئے ۔ یہاں ایک اخبار کے ایڈیٹر نے اپنی نظم چھاپی ۔ مجھے معلوم نہ تھا۔ میں اسے پڑھتا اور سجدہ میں گر گر جاتا ۔ چونکہ وہ بہت درد سے لکھی ہوئی تھی اس لئے اس نے میرے درد مند دل پر بہت اثر کیا۔ وہ صوفیانہ رنگ میں ڈوبی ہوئی نظم ہم تھی۔ کو میں جس بات پر شکر کرتا وہ یہ تھی کہ خدا مجھ پر وہ وقت لایا ہی نہیں کہ مجھے معلوم نہ تھا۔ میں نے ہوش سنبھالتے ہی مولوی خرم علی ، مولوی اسمعیل، مولوی محمد اسحق کی کتابوں نصيحة المسلمين، تقوية الايمان - رویاۃ المسلمین کو پڑھا اور ان سے توحید کا وہ سبق پڑھا کہ ہر غلطی لے اور کتاب ( الہی کو چھوڑ کر ) اس کے پیچھے پڑ گئے جو شیاطین بدکار ۔ ۲؎ اور اتباع کیا اس کا جو اتارا گیا بابل میں ہاروت و ماروت دوفرشتوں پر ۔ سے اور وہ تو کسی کو بھی اس کے ذریعہ تکلیف نہیں پہنچا سکتے ( ہاں ضرر تو اسی کو پہنچتا ہے ) جس کو اللہ چاہے ۔ (ناشر)