حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 36
حقائق الفرقان ۳۶ سُورَةُ آل عِمْرَان نہیں کی ۔ یہ سچ ہے کہ عالم اسباب کی رعایت ضروری ہے مگر اللہ کی مرضی بھی کوئی چیز ہے۔ اِس بات کا ذکر خدا تعالیٰ نے ایک آیت میں کیا ہے وَ آتَيْنَهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا الكهف: ۸۵) لیکن اسباب موافق مقصد کا حصول بھی اللہ کے فضل پر موقوف ہے ۔ اور ایک جگہ ہ منافقوں کے عذر کا ذکر کر کے کہ ہم جنگ میں نہیں نہیں جا سکے فرماتا ہے يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ إِنْ يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا (الاحزاب: ۱۴) اگر وہ نکلنا چاہتے تو پھر ہم اسباب بھی مہیا کر دیتے ۔ چونکہ عالم اسباب کے کارخانے میں ہمارا علم محیط نہیں اس لئے ان کے مناسب موقعہ حصول کے لئے النبی امداد کی ضرورت ہے۔ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اس کے آگے پھر انسان کا بس نہیں چلتا بلکہ خدا کی توفیق و یاوری کی ضرورت ہوتی ہے۔ نام زنگی کا فور نہند کا یہ مطلب بھی ہے کہ وہ سیاہی کے تمام مدارج کو طے کر چکا ہے بس آگے سفیدی ہی ہے اسی طرح نا امیدی جب حد کو پہنچی تو سمجھوا مید آئی۔ عوامید حضرت یسعیاہ کی کتاب باب ۵۴ میں صاف معلوم ہوتا ہے کہ مکہ معظمہ کی نسبت ذکر فرمایا ہے کہ یہ شہر عروس عرب ہے۔ اس پر خطرناک مایوسی ہو گی ۔ اس کا کوئی بیٹا بیٹی لائق نہ ہوگا ۔ وہ خطرناک غلطیوں میں مبتلا ہوں گے پر آخر اس مایوسی میں امید ۔ اس ظلمت میں خورشید نظر آئے گا۔ یہاں بطور تمثیل مریم اور زکریا کا ذکر کرتا ہے کہ دونوں نے اسباب موجود نہ ہونے کی صورت میں اپنی مراد پائی ۔ اسی طرح مکہ عروس عرب ہے ( یادر ہے کہ شہر کو عروس کہنا عام ہے۔ لندن کو عروس البلاد کہتے ہیں شام کو عروس عسقلان ) اس کا بھی ایک بیٹا ہے جو مظفر و منصور ہوگا ۔ اس کے مقابلہ میں جو اٹھے گا ناکام رہے گا ۔ بڑی بڑی طاقتوں سے لوگ اٹھتے ہیں مگر معا ہلاک ہوتے ہیں ۔ کام وہی ہوتا ہے جو خدا کرے۔ دیکھو بنگالی ہیں ان کے نادان بچوں نے گورنمنٹ کے مقابلہ لے اور اس کو دیا تھا اکثر ضروری سامان ۔ ۲ لوگ نبی سے کہنے لگے کہ ہمارے گھر خالی ہیں ۔ (یعنی غیر محفوظ ) حالانکہ وہ خالی نہیں ( غیر محفوظ نہیں ) ان کا ارادہ تو صرف بھاگنے ہی کا ہے۔ (ناشر)