حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 442
حقائق الفرقان ۴۴۲ سُورَةُ الْأَعْرَافِ سے یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لئے نشانی ہے تو اسے چھوڑ دو کہ کھاوے اللہ کی زمین میں اور اس کو بُرائی سے ہاتھ نہ لگاؤ ، نہیں تو تم کو ٹیس دینے والا عذاب آ پکڑے گا۔ تفسیر ۔ سورۃ اعراف میں نبوت کی بحث ہے۔ ۔ اور اور اس اس بات بات ۔ کے نظائر پیش کئے ہیں کہ راست بازوں کی مخالفت کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ عدن سے لے کر مغربی طرف عرب کے ثمود قوم رہتی تھی ۔ جس قدر لوگ انبیاء سے دور چلے جاتے ہیں۔ ان میں اختلاف بڑھتا جاتا ہے اور جس قدر قریب ہوتے ہیں ان میں اتفاق ہوتا جاتا ہے مثلاً فلاسفران میں عجیب عجیب اختلاف ہوتے ہیں ۔ نبیوں میں یہ بات نہیں۔ اسی لئے سب کی تعلیم اصولاً ایک ہی ہے۔ اسی واسطے اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِّنْ إِلَهِ ہر نبی کی تعلیم لکھی ی ہے۔ ہے۔ (ضمیمه اخبار اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۸ مورخه ر ۲۳ ستمبر ۱۹۰۹ صفحه ء ۱۰۶) ناقَةُ اللهِ ۔ کوئی ایک اونٹنی لے کر فرما دیا۔ یہ آیت ہے۔ ہر ولی اللہ ایک ناقہ ہے۔ جب ویا یرہ ۔ ہر صالح کی اونٹنی ناقةُ الله تو کیا نبی کریم کے پیارے ناقہ نہیں ۔ تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۵۴) قرآن کریم میں تو کہیں نہیں لکھا کہ خاص اونٹنی اس وقت پیدا کر دی ۔ صرف اتنی بات قرآن میں ہے۔ هَذِهِ نَاقَةُ اللهِ لَكُمْ آيَةً فَذَرُوهَا تَأْكُلُ فِي أَرْضِ اللَّهِ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۔ یہ خدا کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشان ہے اسے خدا کی زمین میں چرنے دو چکنے دو اور دکھ نہ دوور نہ سخت عذاب میں گرفتار ہو جاؤ گے۔ اس بات کے حل کرنے کے لئے خود تمہارے ملک کی رسوم اور عادات بڑی چابی ہیں ۔ اس ملک میں جہاں جہاں سکھ مالک و نمبردار ہیں۔ وہاں کیا ہوتا ہے؟ کون نہیں جانتا ۔ ایک بیل اگر کسی مسلمان کے ہاتھ سے مارا جاوے تو انسانی جسم کی اس ایک حیوان کے بدلہ میں کیا گت بنتی ہے تمہارے بازاروں میں بیکار ۔ نکتے مال مردم خور بیل پھرتے ہیں۔ بتاؤ؟ کوئی مسلم ان کو چھیڑ سکتا ہے۔ اگر اتفاقی بھی چھیڑے تو تم کیسے اس کے گرد ہوتے ہو۔ تم مفتوح ۔ دبیل ۔ نرم دلوں کا تو حال یہ ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ نے جو بادشاہوں کا بادشاہ ۔ حاکموں کا حاکم ہے ہی کہہ دیا کہ میرے رسول صالح کی سچائی کا