حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 35
حقائق الفرقان ۳۵ سُورَةُ آل عِمْرَان بار یک در بار یک راه نکال لیتے ہیں اور اسی کو کامیابی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اگر ناکام رہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ کوئی خاص سبب جو اس سلسلۂ اسباب میں کامیاب ہونے کے لئے ضروری رہ گیا۔ اگر اس کا علم ہو جاتا تو کبھی نا کام نہ رہتے ۔ یہ وہ ہیں جن کا سورۃ بقرۃ میں فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ (البقرة : (۲۰) کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ایک وہ ہیں جو عالم اسباب کو بالکل ہی نہیں مانتے ۔ وہ اپنے آپ کو مردہ بدست زندہ سمجھتے ہیں مگر تعجب ہے کہ عالم اسباب کی کچھ قدر نہیں لیکن ضرورت کے وقت بھیک مانگ لیتے ہیں ۔ بدبختی سے اس ملک میں ایک ایک عظیم الشان انسان گزرا ہے جس نے زمانہ کے مصائب کو دیکھ کر عالم اسباب کو ترک کرنا چاہا مگر اس کے پیرو ایسی غلطی میں پڑے کہ عالم اسباب کو ترک کا دعوی کر کے عالم اسباب کے ارذل ترین پیشہ میں جا پڑے ( یعنی بھیک ) ۔ وہ نفسانی خواہشوں کے مارنے کا دعوی کرتے ہیں مگر آخر انہی میں گرفتار ہوتے ہیں ۔ قرآن مجید نے ان دونوں خیالات کے لوگوں کو ناپسند کیا ہے۔ اس کو تو یہ راہ پسند ہے وَ مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً (البقرة : ۲۰۲) عالم اسباب کی رعایت بھی بہتے رہے اور پھر خدا پر تو گل بھی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عالم شہادت میں پیدا کیا ہے۔ ایک عالم غیب بھی ہے۔ ساری چیزوں میں تین حد باتیں ہوتی ہیں۔ ا ۔ ذ ذات، صفات، ات ، اف افعال۔ ذوات ت ) المحسوس نہیں ہوتے۔ ہو۔ ہاں صفات سے ہم یقین کرتے کرتے۔ ہیں کہ کوئی ذات ہے اور صفات کا علم افعال سے ہوتا ہے اور وہ موصوف جو ہے وہ عالم غیب میں ہے۔ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے بڑی محنت سے کشاء ورزی کی ہے پھر فصلوں کو کاٹا ہے مگر کھلیان کو آگ لگ گئی اور سب محنت برباد ہو گئی ۔ عالم اسباب کے معتقد کہہ سکتے ہیں احتیاط ے تو بعض آدمی ایسا ہوتا ہے جو دعا مانگتا ہے کہ اے ہمارے رب ! تو ہمیں دنیا ہی میں دے دے تو اس کے لئے آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ ۲۔ اور آدمیوں میں سے بعض آدمی ایسا ہوتا ہے جو دعا مانگتا ہے کہ اے ہمارے صاحب ! تو ہمیں دنیا میں بھی خیر و برکت دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے۔ نہ سہو کا تب ہے۔ (ناشر)