حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 431
حقائق الفرقان ۴۳۱ سُورَةُ الْأَعْرَافِ ۴۴ - وَ نَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلَّ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهُرُ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدْنَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدْنَا اللَّهُ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبَّنَا بِالْحَقِّ وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُم تعملون - ۔ - ترجمہ ۔ اور نکال لی ہے ہم نے ان کے دلوں میں سے جو کچھ رجش تھی ۔ بہہ رہی ہیں ان کے نیچے نہریں سب اللہ ہی کی حمد ہے جس نے ہم کو یہاں پہنچادیا اور ہم تو نہ تھے راہ پانے والے کسی طرح اگر اللہ ہم کو یہاں نہ پہنچاتا بے شک ہمارے رب کے رسول ہمارے پاس آئے سچ اور حق کے ساتھ اور ندا کی جائے گی یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث ہوئے ان نیک اعمال کے سبب سے جو تم کرتے تھے۔ تفسیر من غل ۔ دنیا میں دوزخ ہے۔ کسی کا حسد و بغض ۔ اہلِ جنّت وہ ہیں۔ جن کے سینے دنیا میں بھی بغض و کینہ سے صاف رہتے ہیں ۔ نو دوا - آواز دی جائے گی ۔ عیسائی سوال کرتے ہیں کہ نجات فضل سے ہے یا عمل سے۔ اگر فضل سے ہے تو عملوں کی کیا ضرورت ہے۔ اگر عمل سے ہے تو پھر درخواست فضل کیسی ۔اس کا جواب یہ ہے۔ قرآن شریف سے تین باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ الحَمدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحَلَنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهِ ۚ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ - (فاطر : ۳۶) یہاں تو فضل کا ذکر فرمایا ہے۔ ایک یہ آیت ہے۔ اس میں بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۔ فرمایا جس سے معلوم ہوا ۔ کہ انسان عمل ۲ سے وارث جنت ہوتا ہے ۔ ایک اور جگہ فرمایا ہے ۔ قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ۔ (المومنون : ۲) جس کے ہوا اخیر میں ہے۔ أُولَئِكَ هُمُ الْوَرِثُونَ الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوس (المومنون : ۱ (۱۲) اس سے کہ ایمان سے انسان وارث جنت بنتا ہے۔ تطبیق دینے سے اصل معاملہ کھلتا ہے۔ کہ تینوں ضروری ہیں ۔ ے جس نے ہم کو اتار اسدار ہنے کے گھر میں اپنے فضل سے ۔ نہ ہمیں وہاں کچھ رنج پہنچے گا۔ ۲ بے شک با مراد وہ مومن ہوتے ہیں ۔ سے یہی لوگ وارث ہیں جو میراث پاویں گے فردوس کی ۔