حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 423
حقائق الفرقان ۴۲۳ سُورَةُ الْأَعْرَافِ نسیان اور عدم حزم اور عدم احتیاط کے باعث اس ملک کے قیام سے روکے گئے جہاں مقیم تھے۔ ( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈ ایڈیشن صفحہ ۱۰۹) ۲۴ - قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرُ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ - ترجمہ۔ دونوں نے کہا اے ہمارے رب ہم نے ظلم کیا ہماری جانوں پر اور اگر تو نہ ڈھانچے ہمارے عیب اور ہم پر رحم نہ فرمائے ہم ضرور ضرور ہو جائیں گے ٹوٹا پانے والے۔ تفسیر۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی کمزوری اور نقصان زدہ ہونے کا اقرار کیا اور خدا کی کمزوریوں سے محفوظ رکھنے والی اور نیک اعمال پر نیک نتائج مرتب کرنے والی صفت سے استمداد کی ہے۔ تشحید الاذہان جلد ۸ نمبر ۱۔ ماہ جنوری ۱۹۱۳ء صفحہ ۳۶) انسان کو چاہیے یہ دعا کرے۔ اپنا منعم علیہ بنا لے مگر ان انعام کئے گیوں سے کہ جن پر تیرانہ غضب کیا گیا ہو ۔ نہ وہ بھولے بھٹکے۔ قرآن کی انتہاء دعا پر ہے۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۔ اوّل البشر آدم نے بھی دعا کی رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا ۔ ہمارے آخری نبی کا آخری کلام بھی دعا ہی ہے ۔ اللَّهُمَّ الْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلیٰ ۔ جو لوگ دعا کے ہتھیار سے کام نہیں لیتے ۔ وہ بد قسمت ہیں۔ امام کی معرفت سے جو لوگ محروم ہیں وہ بھی دراصل دعاؤں سے بے خبر ہیں ۔ ( بدر جلدے نمبر ۳ مورخه ۲۳ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه ۱۰) ٢٦ - قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَ فِيهَا تَمُوتُونَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُونَ - ترجمہ ۔ اللہ نے فرمایا تم زمین ہی میں زندگی بسر کرو گے اور اسی میں مرو گے اور یہیں سے تم آخرت میں اٹھائے جاؤ گے۔ تفسیر۔ میں نے اپنے زمانہ میں میرزا غلام احمد صاحب کو دیکھا ہے۔ سچا پا یا اور بہت ہی راستباز تھا۔ جو بات اس کے دل میں نہیں ہوتی تھی وہ نہیں منواتا تھا۔ اس نے ہی ہم کو بھی حکم دیا کہ قرآن پڑھو اور اس پر عمل کرو اور فرمایا کہ قرآن کے بعد اگر کوئی کتاب ہے تو بخاری ہے۔اس نے تین لے (اے اللہ) تو رفیق اعلیٰ سے مجھے ملا دے ۔