حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 422 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 422

حقائق الفرقان ۴۲۲ سُورَةُ الْأَعْرَاف ۱۷، ۱۸ - قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ - ثُمَّ لَاتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ أَيْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَا بِلِهِمْ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شُكِرِينَ - ترجمہ ۔ بولا اس سبب سے کہ تو نے مجھے غاوی اور گمراہ کیا میں ضرور بیٹھوں گا ان کے راستوں پر جو بڑے سیدھے ہیں تیری صراط مستقیم میں ۔ پھر میں آؤں گا ان کے آگے اور پیچھے دائیں اور بائیں سے اور نہ پائے گا تو اکثروں کو شکر کرنے والا ۔ تفسیر فَبِمَا أَغْوَیتَنی ۔ یہ شیطان کا قول ہے اور وہ جھوٹا ہے۔ لا تِيَنَّهُمْ ۔ اوپر کی طرف کا ذکر نہیں کیا کہ وہاں شیطان کا غلبہ نہیں ۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۵۴) عَنْ شَبَابِلِهِمْ ۔ آگے ۔ پیچھے ۔ دائیں بائیں کا ذکر کیا۔ مگر اوپر کا ذکر نہیں پس انسان یہ نہ سمجھے ۔ کہ شیطان سے گھر گیا ۔ بلکہ آسمانی فضل اور خوف الہی کی جانب شیطان سے بحمد اللہ خالی ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۸ مورخه ۲۳ رستمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱۰۴) ۲۲- وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّصِحِينَ - ترجمہ۔ اور ان دونوں کے سامنے قسم کھائی کہ کچھ شک نہیں کہ میں تو تمہارا خیر خواہ ہی ہوں۔ تفسیر حضرت آدم شیطان کی ناراستی اور قسم پر دھوکا کھا جاتے تو ممکن تھا۔ کیونکہ نیکوں کے نیک گمان ہوتے ہیں ۔ نیک آدمی فریبیوں کی باتوں پر اپنے نیک گمان کے سبب غلطی کھا سکتے ہیں۔ شیطان نے تو حضرت آدم سے قسم کھائی تھی ۔ جیسے آیت ذیل سے ظاہر ہے۔ وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّصِحِينَ فَدَلْهُمَا بِغُرُورٍ مگر حضرت آدم نے شیطان کے کہنے پر عمل نہیں کیا اور نہ شیطان کے دھوکے میں آئے۔ ہاں جب آدم درخت ممنوع کی ممانعت بھول گئے جیسے عنقریب آتا ہے اور اس درخت کو استعمال کر چکے تو تو اس لے اُن سے قسم کھا کر کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں ۔ پھر انہیں دھوکے کی راہ دکھائی۔