حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 415
حقائق الفرقان ۴۱۵ سُورَةُ الْأَنْعَامِ تفسیر دنیا میں دو قسم کے لوگ ہیں اول جو دوسرے لوگوں کے تجارب سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی باتوں کو مانتے ہیں ۔ دوم وہ جو اپنے تجربے اور اپنی باتوں پر عمل کرتے ہیں ۔ عقل مندی کا کام یہ ہے کہ جو صداقتیں دنیا میں تسلیم ہوئی ہیں ان کو مان لیں ۔ پس انبیا علیہم السلام کی کتابوں سے ( جو صداقتوں اور تجربوں کا مجموعہ ہیں ) ضرور فائدہ اٹھاؤ۔ الا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا - شرک چار قسم کا ہے۔ ۱۔ شرک فی الذات الذات ۲۔ شرک فی الصفات ۔ شرک فی الافعال ۴۔ شرک فی التعظیم ۔ یہ چوتھا شرک عام ہے۔ کرنا۔ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُم - ا۔ ایسی دوا کھانا کہ حمل گر جائے ۔۲۔ دختر کشی۔ ۳۔ اولاد کی پرواہ نہ مَا ظَهَرَ مِنْهَا - زنا۔ چوری ڈاکہ گالیاں ۔ وَمَا بَطَنَ - کینہ ۔ کپٹ بغض ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۸ مورخه ۲۳ رستمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱۰۳) شرک عربی زبان میں کہتے ہیں سانجھ کرنے کو کسی سے کسی کے ساتھ ملانے کو ۔ تو مطلب یہ ہوا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو جوڑی نہ بناؤ ۔ ایک مقام پر فرمایا ہے ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ (الانعام : ۲) کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے برابر اس کی ذات میں کسی دوسرے کو بھی مانتا ہو۔ یہ شرک میں نے کسی سے نہیں سنا۔ ثر نوی ایک فرقہ ہے جو کہتے ہیں دنیا کے دو خالق ہیں۔ ایک ظلمت کا۔ ایک نور کا ۔ مگر برا بر وہ بھی نہیں کہتے ۔ کا۔ ( بدر جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه (۲) ج ۱۵۳ - وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ لَا تُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ وَإِذَا قُلْتُم فَاعْدِلُوا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى وَ بِعَهْدِ اللهِ أَوْفُوا ذَلِكُمْ وَضَكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تذكرون - ترجمہ ۔ اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طور سے کہ بہتر ہو یہاں تک کہ وہ پہنچ جاوے اپنی ے پھر بھی یہ حق چھپانے والے اپنے رب کے برابر دوسروں کو بتاتے ہی ہیں۔