حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 408 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 408

حقائق الفرقان لد ٧٠ سُورَةُ الْأَنْعَامِ پھر کہتے ہیں یہ تو اللہ کا ہے ان کے خیال کے موافق اور یہ ( دوسرا حصہ ) ہمارے شریکوں کا ہے تو جو ان کے شریکوں کا ہوتا ہے تو وہ اللہ کو نہیں مل سکتا اور جو اللہ کا ہے تو ان کے شریکوں کو مل سکتا ہے۔ کیا برا حکم اور فیصلہ کرتے ہیں ۔ تفسیر - وَجَعَلُوا الله - جولوگ شریعت کی پرواہ نہیں کرتے ۔ انہیں بھی کسی نہ کسی اصل یا رسم پر چلنا ہی پڑتا ہے۔ پس انسان کیوں شریعت کا پابند نہ ہو۔ جس کی پابندی مثمر ثمرات کثیرہ و برکات متعددہ ہے ۔ ایک شخص کو جو قرآنی احکام کی تعمیل کو بہت بھاری سمجھتا تھا۔ میں نے قائل کیا کہ تم جس سر رشتہ کے ملازم ہو۔ اس کے پھر میونسپلٹی کے قوانین کے پھر گورنمنٹ کے قوانین کے ماتحت ہو ۔ کیا ان سب کا حجم قرآن سے زیادہ نہیں۔ اس پر اس نے اپنی غلطی تسلیم کر لی ۔ ورنہ میں نے اسے کہنا تھا۔ تم نیچر کے ذرے ذرے کے قوانین کے ماتحت ہو۔ قرآن کریم نے کیا لطیف فرمایا ہے۔ أَنْ تَنْفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ فَانْفُذُوا لَا تَنْفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطن ( الرحمن : ۳۴) غرض جو لوگ شریعت کو چھوڑتے ہیں۔ وہ اس سے دو چند ۔ سہ چند رسوم کی مشکلات میں پھنستے ہیں اور دکھ اٹھاتے ہیں ۔ وَجَعَلُوا لِلَّهِ ۔ دیکھئے زکوۃ نہ دی تو کس گمراہی میں پڑے۔ لشركاہنا ۔ ہمارے قراردادہ ۔ یا خدا فرماتا ہے ہمارے شرکاء۔ يَصِلُ إِلَى شُرَكَا بِهِمْ ۔ خدا کا حصہ بھی انہی مہنتوں کو دے دیا جاتا ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۸ مورخه ۲۳ ستمبر ۱۹۰۹ء صفحه (۱۰۳) ۱۳۸ - وَ كَذلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلَادِهِمْ شُرَكَاؤُهُمْ لِيرُدُوهُمْ وَلِيَلْبِسُوا عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ وَ لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا ودر يفترون - ترجمہ ۔ اور اسی طرح پسند کرا دیا ہے بہت مشرکوں کو اپنے بچوں کا مار ڈالنا ان کے شریکوں نے ے کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جا سکو تو نکل بھاگو ۔ نکل ہی نہ سکو گے مگر پروانگی کے ساتھ ۔