حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 405 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 405

حقائق الفرقان لد ٢٠ سُورَةُ الْأَنْعَامِ وَ كَذلِكَ نُوَلِّي بَعْضَ الظَّلِمِينَ بَعْضًا (الانعام: ۱۳۰)۔ اس کا ترجمہ یہ ہے ۔ اسی طرح ہم ظالموں کے والی ظالموں کو بنا دیتے ہیں۔ پس جو شخص اپنی اصلاح کرلے اس پر ظالم حکومت اور تصرف نہیں کر سکتا۔ ( بدر جلد ۸ نمبر ۴ مورخه ۳ دسمبر ۱۹۰۸ء صفحه (۳) ۱۳۱ ۱۳۲ - يُمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ اَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَتِي وَ يُنْذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا قَالُوا شَهِدْنَا عَلَى أَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَيُوةُ الدُّنْيَا وَ شَهِدُوا عَلَى أَنْفُسِهِمُ أَنَّهُمْ كَانُوا كَفِرِينَ - ذَلِكَ أَنْ لَّمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَ أَهْلُهَا غُفِلُونَ - ترجمہ ۔ ۔اے جماعت جن اور امراء اور انسان اور غربا کی ! کیا تمہارے پاس تمہیں میں کے رسول نہیں آئے سناتے تھے تم کو میرے حکم ڈراتے تھے تم کو آج کا دن دیکھنے سے ۔ وہ کہیں گے ہم اقراری ہیں اپنے (ذاتی گناہوں) پر اور ان کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں رکھا اور انہوں نے اپنی ذاتوں پر آپ ہی گواہی دے دی یہ کہ وہ بے شک کا فر ہی تھے ۔ تفسیر۔ انسان میں دو قسم کے قوی ہیں۔ ایک جن پر انسان کو مقدرت ہے ۔ دوم جن پر کوئی مقدرت نہیں پہلی قسم کے متعلق شریعت ہے۔ دوسری کے متعلق ہرگز نہیں۔ اگر کوئی شریعت اس کے بارے میں حکم دے تو وہ شریعت جھوٹی ہے۔ دیکھ لو رنگ ۔ قد۔ اندرونی پٹھوں ۔ ہڈیوں کے بارے میں کسی شریعت حقہ نے حکم نہیں دیا۔ ہاں مشرک قوموں نے ایسے مسئلے گھڑے ہیں ۔ مثلاً عیسائی کہتے ہیں دو تین خدا ہیں مگر ایک ہے “ اس بات کو کوئی انسانی عقل باور نہیں کر سکتی ۔ بت میں منتر پڑھنے کے وہ بعد خدا آ جانے کا مسئلہ بھی ایسا ہی ہے۔ ۔ زبان دونوں قسم کے قومی کا مظہر ہے۔ کھٹے کو میٹھا نہ کہے گی مگر خدا کو گالیاں دلوالو ۔ اسی آخری قدرت و تصرف کے متعلق اصلاح کے لئے اللہ رسول بھیجتا ہے۔ چنانچہ اس رکوع میں جن وانس امراء اور غرباء دونوں کو مخاطب کرتا ہے۔ رُسُلٌ مِنْكُمْ ۔ تم ہی میں سے رسول ہوئے ۔ انبیاء امراء بھی ہوئے ہیں جیسے سلیمان، غرباء - بھی جیسے یحیی علیہ السلام ۔