حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 401
حقائق الفرقان لد ۱۰ سُورَةُ الْأَنْعَامِ ۱۲۴ - وَ كَذَلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكْبَرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا فِيهَا وَ مَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنْفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ ترجمہ ۔ اسی طرح ہم نے پیدا کئے ہر بستی میں جناب الہی سے قطع تعلق کرنے والے سردار گناہ گاروں کے تاکہ وہاں تدبیریں چلایا کریں وہ کیا تدبیریں کرتے ہیں مگر اپنی ہی جانوں کے لئے اور وہ کچھ بھی شعور نہیں رکھتے ہیں ۔ تفسیر - اكبر مُجْرِمِيها مامور من اللہ کی جماعت میں اکابر پہلے شامل نہیں ہوتے۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه (۴۵۳) ۱۲۵ - وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَنْ تُؤْمِنَ حَتَّى نُؤْتَى مِثْلَ مَا أُوتِي رُسُلُ اللهِ اللهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارُ عِنْدَ اللهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ - ترجمہ۔ اور جب کبھی ان کے پاس کوئی نشانی آ جاتی ہے وہ کہنے لگتے ہیں ہم تو ہرگز نہ مانیں گے جب تک کہ ہم کو نہ مل جائے وہ جو اللہ کے رسولوں کو ملا ۔ اور اللہ خوب جانتا ہے کہ کہاں اپنی رسالت رکھنی چاہئے قریب ہی پہنچے گی جناب الہی سے قطع تعلق کرنے والوں کو ذلت اللہ کے یہاں کی اور بڑا سخت عذاب اس وجہ سے کہ وہ بری تدبیریں کرتے تھے۔ تفسیر حتی نوتی ۔ ہم کو بھی الہام ہو ۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے زمیندار مال گزاری وصول کر نیوالے کو کہے۔ اگر بادشاہ نے یہ روپیہ لینا ہے تو وہ خود کیوں میرے گھر نہیں آتا؟ ا۔ اللہ تعالیٰ دلوں کی پہچان کا ذکر کرتا ہے۔ ۲۔ بعض صحبتیں ۔ مکان ۔ دوست ایسے ہوتے ہیں کہ ان سے تعلق بدی کی طرف رغبت دلاتا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں ستر بار سے زیادہ استغفار فرماتے تھے تا کہ قلب پر رین تک بھی نہ آئے۔ ۴۔ استغفار بہت ضروری ہے۔ ورنہ رین پڑتے پڑتے ختم قفل تک نوبت پہنچتی ہے۔ ۵۔ جو لوگ ہدایت پانے کے قابل ہوتے ہیں وہ حق بات کے ماننے کیلئے ہر وقت اے زنگ میل۔ (مرتب)