حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 391
حقائق الفرقان ۳۹۱ سُورَةُ الْأَنْعَامِ ١٠٧ - اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ۚ وَ أَعْرِضُ عَنِ الْمُشْرِكِينَ - ترجمہ ۔ ۔ تو تو اسی پر چل جو تیری طرف وحی کی تیرے رب نے۔ کوئی سچا معبود نہیں اس کے سوائے اور منہ پھیر لے مشرکوں سے۔ تفسیر۔ اتبع ۔ یہ خطاب عام ہے۔ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ۔ یہ تمام وحیوں کا خلاصہ ہے کہ وہ معبود ہے جس کے فرمان پر عمل کیا جائے۔ ایک طرف رسم عادات ۔ احباب بلاتے ہیں۔ دوسری طرف اللہ کا حکم ۔ اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ بندہ اللہ کا فرماں بردار ہے یا نفس کا اور احباب کا۔ لا اله الا الله - کس دل سے مانا ہے۔ یروشلم کے محاصرہ میں پادریوں نے کہا۔ تمہارا خلیفہ آوے تو اُسے ہم دخل دے دیں۔ حضرت عمر اسی سادگی میں روانہ ہوئے ۔ غلام کے ساتھ باری باری اونٹ پر چڑھتے آتے تھے۔ ابو عبیدہ نے عرض کیا آپ کپڑے بدل لیں ، گھوڑے پر سوار ہوں ۔ آپ نے یہ عرض مان لی مگر تھوڑی دور جا کر گھوڑے سے اتر بیٹھے ۔ کہا میرا وہی لباس اور اونٹ لاؤ۔ آپ جب گئے تو بطریق وغیرہ نے رعب میں آ کر چابیاں پھینک دیں کہ اس سپہ سالار کا مقابلہ ہم نہیں کر سکتے ۔ پس میں کس طرح النَّاسُ بِاللباس کہنے والوں کا قائل ہو جاؤں ۔ وجہ کیا تھی ۔ تو اللہ کا فرماں بردار بن ۔ سب مخلوق تیری فرماں بردار ہو جاوے گی۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۵ مورخه ۳ ستمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱۰۰) ۱۰۸ - وَ لَوْ شَاءَ اللهُ مَا أَشْرَكُوا وَمَا جَعَلْنَكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ۚ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ - ترجمہ ۔ اور اللہ نے چاہا ہوتا تو وہ شرک نہ کرتے اور ہم نے تجھ کو ان پر نگہبان نہیں بنایا اور نہ تو ان کا وکیل ہی ہے۔ تفسیر - لَوْ شَاءَ اللهُ مَا اشْرَكُوا جبر سے کام ! لیتا تو کوئی مشرک نہ رہتا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۵ مورخه ۳ ستمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۰۰)