حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 30
حقائق الفرقان ۳۰ سُورَةُ آل عِمْرَان إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَنَ عَلَى الْعَلَمِينَ - ترجمہ - (یہ مت سمجھو کہ اللہ کسی کو ضائع کر دے گا دیکھو ) اللہ نے پسند فرمایا اور بزرگی دی آدم کو اور نوح کو اور ابراہیم کے خاندان کو اور عمران کے خاندان کو تمام جہان پر ۔ تفسیر - إِنَّ اللهَ اصْطَفَى آدَمَ ۔ اللہ تعالیٰ نے آدم زاد کو تمام مخلوقات پر برگزیدہ کیا اور یہ ظاہر ہے ایک عالم کبیر ہے تو آدم عالم صغیر ، تمام اشیاء کا جامع ہے۔ پھر آدمیوں میں سے نوح کو اول الرسل بنایا۔ آدم کو خدا نے رسول نہیں فرمایا بلکہ خلیفہ کہا۔ اول الرسل نوح ہی ہیں ۔ آپ نے اپنی قوم کو ترک بدی کی تعلیم دی اور استغفار سکھایا۔ پھر جب دوسرا دور آیا تو ابراہیم کو رسالت سے ممتاز کیا جنہوں نے تنزیہہ کے علاوہ فرمانبرداری کی تاکید کی اور اِنَّ صَلوتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِين (الانعام : ۱۶۳) کا سبق دیا۔ پھر حضرت موسیٰ کا زمانہ آیا۔ اللہ کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے نبوت بھی دی۔ غرض تمام انعامات سے بھر پور کر دیا اور یہ نہ سمجھو کہ ان میں خاص خاص لوگ ہی تھے بلکہ عمران کی عورتوں کو بھی مشرف بکلام الہی کیا۔ چنانچہ عمران کی ایک عورت کا ذکر کرتا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۳، ۳۴ مؤرخہ ۱۷ رجون ۱۹۰۹ء صفحہ ۵۷ ) ۳۶- إِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَنَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلُ مِنِّي إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ - ترجمہ ۔ جب عمران کی بی بی نے کہا اے میرے رب ! میں نے منت مانی ہے تیرے لئے جو کچھ میرے پیٹ میں ہے آزاد بنا کر تو قبول فرمالے میری منت بے شک تو بڑا سننے والا بڑا خبر دار ہے۔ تفسیر۔ بعض لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ مریم کی والدہ عمران کی بیوی نہ تھی ۔ یہ غلط ہے۔ یہودیوں ، عیسائیوں میں بزرگوں کے نام پر قوم چلتی ہے ۔ موسی اور ہارون عمران کے بیٹے تھے۔ پس انہی کی نسل میں سے ایک عورت تھی جس کا یہ ذکر ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۳، ۳۴ مؤرخہ ۱۷ ارجون ۱۹۰۹ء صفحہ ۵۷ ) ا میری نماز اور عبادت اور میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کو آہستہ آہستہ کمال کی طرف پہنچانے والا ہے۔