حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 386 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 386

حقائق الفرقان ۳۸۶ سُورَةُ الْأَنْعَامِ ۹۹۹۸- وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِهَا فِي ظُلُمَتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ - وَهُوَ الَّذِي أَنْشَاكُم مِّنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَ مُسْتَوْدَعْ - قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ - ترجمہ۔ وہی اللہ ہے جس نے تمہارے لئے تارے بنائے تا کہ تم ان کے ذریعہ سے راستہ پاؤ خشکی اور تری کے گھٹا ٹوپ اندھیریوں میں ۔ ہم نے مفصل بیان کر دیں آیتیں جاننے والی قوم کے لئے ۔ وہی اللہ ہے جس نے تم کو پیدا کیا ایک ہی نفس سے اور ہم تفصیل وار بیان کر چکے نشانیاں سمجھدار قوم کے لئے ۔ تفسیر ۔ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِهَا ۔ ایک ستارہ تو وہ ہے جس پر تمام جہاز رانی موقوف ہے یعنی قطب ۔ قطب نما ایسی چیز ہے کہ آج کل تمام جہاز اسی پر چلتے ہیں۔ عرب دوسرے ستاروں سے بھی بہت کام لیتے اور راہ پاتے۔ خدا تعالیٰ یہ تمام نظارے اپنی قدرت کے بیان فرما کر سمجھاتا ہے کہ بڑا ہی نادان ہے وہ جو مسئلہ نبوت کا منکر ہے۔ ان معمولی پڑاؤں اور منزلوں کے لئے تو اس نے راہنمائی کا اتنا بڑا سامان مہیا کیا ہو اور اس کی سنت ہو کہ ظلمت کے بعد روشنی عطا کرے لیکن اپنے حضور پہنچنے کے لئے کوئی شمس ، ا کوئی قمر ، کوئی ستارہ نہ ہو یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اے منکرانِ نبوت جب تم فعل الہی سے نفع اٹھا رہے ہو تو قول النبی سے بھی اٹھاؤ۔ میں تو دیکھتا ہوں کہ جب سے ریل، تار، موٹر وغیرہ بنے ہیں اس وقت سے خدا تک پہنچنے کی راہیں بھی سہل ہو گئی ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ صحابہ کے لئے بہت سخت مجاہدہ تھا یہاں تک کہ جان بھی دینا پڑتی تھی۔ مگر اب تو یہ باتیں نہیں ۔ مُسْتَقر ۔ جہاں ٹھہرنا ہے یعنی بہشت ۔ مستودع ۔ جہاں بطور امانت عارضی قیام تھا۔ ماں کا پیٹ۔ پھر ماں کی گود ۔ پھر گھر کا صحن ۔ پھر وطن یہ سب عارضی ہی ہیں ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۵ مورخه ۳ ستمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۹۹)