حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 381
حقائق الفرقان ۳۸۱ سُوْرَةُ الْأَنْعَامِ فرماتا ہے جو لوگ کسی قسم کے ایمان کا دعوی کرتے ہیں ۔ خواہ دہر یہ ہی ہوں۔ غرض پابند ہوں کسی چیز کے ۔ کسی اصل کے۔ پھر وہ خواہ یہودی ہوں یا عیسائی ہوں یا صابی ۔ جو کوئی اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے۔ ان دو باتوں کا ذکر اس لئے کیا کہ ایمان کی جڑ اللہ پر ایمان ہے۔ اور ایمان کا منتہی آخرت پر ایمان اور جو آخرت رت پر ایمان لاتا ہے۔ اس کا نشان بھی بتا دیا ہے کہ (وَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَهُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ ) وہ ایک تو تمام قرآن مجید پر ایمان لاتا ہے۔ دوم اپنی صلوٰۃ کی محافظت کرتا ہے۔ آج ہی ایک نوجوان سے میں نے پوچھا۔ نماز پڑھتے ہو؟ اس نے کہا صبح کی نماز تو معاف کرو ( بھلا میرا باوا معاف کرنے والا ہے ) باقی پڑھتا ہوں ۔ یہ مومن کا طریق نہیں ہے۔ ایک مقام پر فرمایا۔ آفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ (البقرة: ٨٧) الفضل جلد نمبر ۲۱ مورخه ۵ نومبر ۱۹۱۳ صفحه ۱۵) وَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَهُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ (الانعام: ٩٣) اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے تو وہ آخرت پر بھی ایمان لاتا ہے۔ یعنی اللہ پر ایمان لانا آخرت پر ایمان لانے کے لئے ضروری ہے۔ پھر اس ایمان کا اثر اعمال پر یوں پڑتا ہے کہ ایسے مومن اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔ انہیں ضائع نہیں ہونے دیتے ۔ پس یاد رکھو کہ جو شخص لا إله إلا الله کا دعویٰ کرے اور بائیں نماز کا تارک ہو اور قرآن کریم کی اتباع میں سستی کرے، وہ اپنے اس لا اله الا اللہ کے دعوئی میں سچا نہیں جیسا کہ یہ آیت ظاہر کرتی ہے۔ (مرقات الیقین فی حیات نورالدین صفحه ۶۱ ۶۲ ) ے تو کیا تم کتاب کے بعض احکام پر ایمان لاتے ہو اور بعض احکام سے انکار کرتے ہو۔ ۲۔ اور ان کو جو مرے بعد آخرت میں جی اُٹھنے کو مانتے ہیں اور وہ قرآن کو بھی مانتے ہیں اور یہی لوگ اپنی نمازوں کے بڑے پابند ہیں۔