حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 29
حقائق الفرقان ۲۹ سُورَةُ آل عِمْرَان اسلام لانے والوں نے جیسا انہیں نبی کریم نے سمجھایا کیا۔ کلمہ سکھا یا کلمہ پڑھ لیا۔ نماز سکھائی تو نماز پڑھ لی ۔ روزہ، حج ، زکوۃ ۔ جس طرح فرمایا اسی طرح ادا کیا۔ یہ اسلام ہے۔ ( بدر جلد ۹ نمبر ۱۴ مورخه ۲۷ جنوری ۱۹۱۰ صفحه ۸ ) انسان کو اپنے خالق و رازق ومحسن سے محبت ہوتی ہے مگر محبت کا نشان بھی ہونا چاہیے اس لئے فرماتا ہے قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ یعنی کہہ دے اگر تمہیں اپنے مولی سے محبت کا دعوی ہے تو اس کی پہچان یہ ہے کہ میری اتباع کرو پھر تم محب کیا اللہ کے محبوب بن جاؤ گے۔ ( بدر جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ فروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۲) قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (ال عمران:۳۲) جو چاہتا ہے کہ وہ مولا کریم کا محبوب ہو اس کو لازم ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے اور سچی اتباع کامل محبت سے پیدا ہوتی ہے اور محبت محسن کے احسانوں کی یاد سے بڑھتی ہے جو شخص اس محسن اور عنایت فرما کی خلاف ورزی کرتا ہے جو بلا وجہ اور بلا مزد مروت و احسان کرتا ہے وہ سب سے زیادہ سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ اسی لئے ابوالحنفاء کے منہ سے قرآن شریف میں اب آذر کو یہ کہلواد یا اني أَخَافُ أَنْ يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَنِ (مریم: ۴۶) یعنی جس نے بلا وجہ تم پر احسان کیا تیرا قلب اچھا ہوتا تو اس کی محبت میں تو ترقی کرتا بر خلاف اس کے تو نے بتوں کی پرستش کی۔ پس اس رحمانی صفت کے انکار کی وجہ سے عذاب بھی شدید آئے گا۔ الحکم جلدے نمبرا مؤرخہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷ ) قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَفِرِينَ - ترجمہ ۔ کہہ دو اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانو تو اگر وہ پھر جائیں تو بے شک اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا ۔ تفسیر قُلْ أَطِيعُوا اللهَ وَالرَّسُولَ پھر بعض لوگ ایسے ہیں کہ ہر حرکت و سکون میں ایسی فرمانبرداری نہیں کر سکتے کہ اس میں فنا ہو جاویں اس لئے فرمایا کہ رسول ہونے کی حیثیت سے جو حکم اس نے دیئے ان پر عمل کرو۔ پس اگر محبوب نہ بنا ئیں تو کفر سے تو نکال لیں گے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۳، ۳۴ مؤرخہ ۱۷ جون ۱۹۰۹ ء صفحہ ۵۷) اے اے میرے باپ! میں ڈرتا ہوں کہ رحمن کا عذاب تم کو نہ چھو جائے۔