حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 28
حقائق الفرقان ۲۸ سُورَةُ آل عِمْرَان خدا کے محبوبوں میں ایک ممتاز محبوب نظر آیا۔ جو قربانی کرتا ہے اللہ اس پر خاص فضل کرتا ہے۔ اللہ اس کا ولی بن جاتا ہے پھر اسے محبت کا مظہر بناتا ہے۔ پھر اللہ انہیں عبودیت بخشتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جس میں لامحدودترقیاں ہو سکتی ہیں۔ ( بدر جلد ۸ نمبر ۱۳ مورخه ۲۱ جنوری ۱۹۰۹ ء صفحه (۸) إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ( ال عمران: ۳۲) کہ اگر تم کو یہ منظور ہے کہ خدا کے محبوب بنو تو اس کی اتباع کرو۔ جب انسان کسی کا پیارا بنتا ہے تو پیار کرنے والا اپنے پیارے کی تکلیف کو پسند نہیں کرتا ۔ اگر کسی غلطی کی وجہ سے وہ کسی تکلیف میں ہو تو اس کی تکالیف کو دور کرتا ہے۔ مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ محبوب کی تکلیف دیکھتے اور اس کو دور نہیں کر سکتے ۔ اس لئے کہ ان میں طاقت دور کرنے کی نہیں ہوتی مگر خدا تو کامل قدرت اور کامل علم والا ہے۔ پس خدا نے فرمایا کہ اگر تم کو مجھ سے تعلق ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو پھر تم میرے محبوب بن جاؤ گے ۔ جب تم اس کے محبوب بن جاؤ گے تو ہر ایک قسم کے سامان تمہارے لئے اللہ تعالیٰ مہیا کرے گا۔ (الحکم جلد ۸ نمبر ۲۶،۲۵ مؤرخہ ۳۱ جولائی و ۱۰ اگست ۱۹۰۴ صفحه ۸) اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو اور اس سے سچے تعلقات محبت پیدا کرنے کے خواہش مند ہو تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کرو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ کے محبوب بن جاؤ گے اس اصل سے صحابہؓ نے جو فائدہ اُٹھایا ہے ان کے سوال پر غور کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے۔ ( بدر جلد ۸ نمبر ۴۱ مورخه ۵ را گست ۱۹۰۹ ء صفحه ۲) اسلام نام ہے فرماں برداری کا ۔ سارے جہان کو تو موقع نہیں کہ اللہ کی باتیں سنے اس لئے پہلے نبی سنتا ہے پھر اوروں کو سناتا ہے۔ سو پہلا مرتبہ یہی ہے کہ نبی کی صحبت میں رہے اور اس سے فرماں برداری کی راہیں سنے اور سیکھے چنانچہ اس بناء پر نبی کریم صلعم نے یہ سمجھا یا کہ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ یعنی سرِ دست تم میرے تابع ہو جاؤ ۔ اس کی تعمیل