حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 358
حقائق الفرقان ۳۵۸ سُورَةُ الْأَنْعَامِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی قوم کے افراد کو کفر و شرک، چوری، زناء ، شراب، قصہ کہانیوں اور طرح طرح کے گناہوں میں مشغول دیکھتے ہوں گے تو بہت بہت کڑھتے ہوں گے چنانچہ ایک جگہ فرمایا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ - (الكهف : ) يكذِبُونَكَ - تجھے تو یہ جھوٹا نہیں کہتے کیونکہ دعوی نبوت سے پہلے انہوں نے کبھی تجھے ایسا نہیں کہا۔ اور اب دوسرے معاملات میں جھوٹا نہیں کہتے۔ صرف وحی الہی کو جھٹلاتے ہیں گویا میری آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ یہ زبردست شہادت ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی صداقت پر۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۴ مورخه ۲۶ را گست ۱۹۰۹ صفحه ۹۴، ۹۵) فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ - تجھے جھوٹا نہ کہا۔ بلکہ جب تم نے دعوی کیا تو انہوں نے آیات اللہ کو جھٹلا یا تیری زندگی پر کوئی حرف نہ لا سکے۔ یہ نویں دلیل ہے۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۵۲) ۳۵- وَ لَقَدْ كَذِبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَى مَا كُذِبُوا وَ أُوذُوا حَتَّى اتْهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَتِ اللهِ وَ لَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَبَاى الْمُرْسَلِينَ - ترجمہ۔ بے شک بہت سے رسول جھٹلائے گئے تجھ سے پہلے تو وہ جھٹلائے جانے پر صبر کرتے رہے اور وہ تکلیف دئے گئے یہاں تک کہ ہماری مددان کو آ پہنچی اور اللہ کی پیش گوئیوں اور باتوں کی تبدیلی نہیں ہو سکتی اور تجھ کو پہنچ چکے بعض مرسلوں کے احوال ۔ تفسیر۔ جب اس کتاب تکذیب کو دیکھا تو وہ کل مکذب یاد آ گئے جو آدم سے لیکر ہمارے ہادی (فداہ ابی وامی صلی اللہ علیہ وسلم ) تک آپ کے اور آپ کے سچے اور نیک فرماں بردار اور جان نثاروں کے مقابل گزرے مگر وہی الہی سنت اور خدائی قاعدہ کہ انجام کا راہل ایمان اور راست باز ہی فتح یاب ہوتے ہیں میرے واسطے جان افزا۔ راحت بخش ہوا ۔ ہمارے ہادی علیہ الصلوۃ والسلام کو باری تعالیٰ فرماتا ہے۔ اے اے رسول! کیا تو اپنی جان کھپاوے گا ۔ ۲ تکذیب براہین احمدیہ۔ مرتب