حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 343
حقائق الفرقان ۳۴۳ سُورَةُ الْمَائِدَة ۱۱۵ ۱۱۶- قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللهُمَّ رَبَّنَا انْزِلُ عَلَيْنَا مَا بِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِأَوَّلِنَا وَ آخِرِنَا وَ آيَةً مِّنْكَ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرَّزِقِينَ - قَالَ اللهُ إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ فَمَنْ يَكْفُرُ بَعْدُ مِنْكُمْ فَإِنِّي أَعَذِّبُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِّنَ الْعَلَمِينَ - ترجمہ ۔ عیسی ابن مریم نے کہا اے اللہ ہمارے رب ! ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لئے عید ہو۔ اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو اور تو ہم کو روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔ اللہ نے فرمایا وہ میں اتاروں گا تم پر پھر جو تم میں سے حق پوشی کرے گا اس کے بعد تو میں اس کو عذاب دوں گا ایسا عذاب کہ جہانوں میں ویسا عذاب کسی کو نہ دوں گا۔ تفسیر - من السماء - ائل رزق ۔ لا وَّلِنَا وَاخِرِنَا ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس دعا کا اثر محض حواریوں کے لئے نہیں تھا اور نہ مائدہ کوئی ایسی چیز ہے کہ صرف حواری ہی اس سے مستفیض ہوئے ہوں بلکہ عام رزق مراد ہے جیسے کہ آگے خود تشریح کی ہے۔ وَارْزُقْنَا وَ انْتَ خَيْرُ الرَّزِقِينَ ۔ إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ - یہاں علماء کی بحث ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ فَانِي أَعَذِّبُهُ عَذَابًا سن کر وہ ڈر گئے۔ مگر میرے نزدیک یہ دعا کی گئی اور یقینا قبول ہوئی۔ دیکھتے نہیں عیسی کے نام لیووں کے پاس کتنا رزق ہے۔ کتنی دولت ہے۔ یہاں تک کہ دن میں کئی بار لباس تبدیل کرتے اور نئے سے نئے کھانے کی وجہ سے گویا ہر روز ان کے ہاں عید ہوتی ہے۔ عید الأَوَّلِنَا وَاخِرِنَا کے الفاظ کا اثر ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۳ مورخه ۱۹ را گست ۱۹۰۹ ء صفحه ۹۲) مَا بِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ - ائل بالضرور تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۵۲)