حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 338
حقائق الفرقان ۳۳۸ سُورَةُ الْمَائِدَة لَا تَشْتَرى به ثمنا ۔ یہاں اعتراض کیا گیا ہے کہ جب وہ گواہ ہیں۔ تو گواہ سے قسم کیسی ۔ ہم کہتے ہیں بصورت شبہ وہ گواہ نہیں رہے۔ بلکہ مال ان کے سپرد کیا گیا ہے۔ پس وہ اس صورت میں مدعا علیہ ہو گئے ۔ ورثاء مدعی ہیں اور یہ مدعا علیہ ۔ مقدمہ کے دوران میں ایسا ہو جاتا ہے۔ ایک تمیم داری نصرانی تھا اور ایک عدی بن بدا سہی ۔ مکہ میں تجارت کے لئے آتے۔ عدی ایک تاجران کے ساتھ گیا۔ راہ میں مر گیا اور اپنا مال ان کے سپرد کر گیا۔ عمرو بن عاص اس کے وارث تھے ۔ ان کو ایک جام کے متعلق شبہ ہوا ۔ ایک لوٹے کی ایک نالی میں فہرست بھی مل گئی ۔ جس برتن کے متعلق شبہ تھا وہ بھی اس میں درج تھا۔ جو دیا نہیں گیا اور یہ پہلے پوچھ لیا گیا کہ اس نے کوئی چیز تمہارے آگے بیچی تو نہیں اور پھر جام جہاں بیچا وہاں سے بھید کھل گیا۔ اس صورت میں وہی عیسائی گواہ مدعا علیہ بن گئے ۔ نَشْتَرِی ہے ۔ میں آ کا مرجع اللہ ہے یا قسم ۔ یعنی ہم نہیں لیتے اللہ کے نام کے بدلے۔ یا قسم کے بدلے کوئی دنیاوی فائدہ ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۳ مورخه ۱۹ اگست ۱۹۰۹ صفحه ۹۱، ۹۲) ۱۰۸ - فَإِنْ عُثِرَ عَلَى أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا فَأَخَانِ يَقُومُنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيْنِ فَيُقْسِينِ بِاللَّهِ لَشَهَادَتْنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَمِنَ الظَّلِمِينَ - ترجمہ ۔ پھر جو خبر ہو جائے کہ ان دونوں نے گناہ کر کے حق دبا لیا تو اور دو شخص ان کی جگہ کھڑے ہوں قریبی رشتہ دار ان لوگوں میں سے جن کا حق ڈوبا اور یہ متوفی کے قریبی رشتہ دار ہوں پھر دونوں اللہ کی قسم کھاویں کہ ہماری گواہی زیادہ معتبر ہے ان دو کی گواہی سے اور ہم نے کچھ حد سے تجاوز نہیں کیا، ایسا کریں تو بے شک ہم ظالم ہیں ۔ تفسیر ان موثر ۔ اگر مطلع ہو گئے ۔ عفو کے معنے ہیں کسی کے اوپر گرنا تقوتُ مِنْهُ علی خیانت ایک محاورہ ہے۔ أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا ۔ ای استوجب الاثم یعنی انہوں نے واجب کر لیا اپنے ذمے اثم ۔ اثم انے میں اس کی خیانت پر مطلع ہو گیا۔