حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 336
حقائق الفرقان ۳۳۶ سُورَةُ الْمَائِدَة ہدایت یافتہ ہو جاؤ ۔ تم سب کو اللہ ہی کی طرف پھر کر چلنا ہے تو وہ تم کو خبر دار کر دے گا تمہارے اعمال سے۔ تفسیر ۔ لَا يَضُرُكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ - چالیس برس کا عرصہ گزرتا ہے۔ میں نے جب مسند احمد حنبل پڑھی تھی تو پہلی حدیث حضرت ابوبکر سے اسی آیت کی تفسیر کے متعلق پڑھی تھی آپ فرماتے ہیں کہ إِذَا رَأَيْتَ شُئًا مُطَاعًا وَهَوَى مُتَبَعًا واعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْي بِرَأْيه - جب ایسا وقت آ جاوے کہ انسان بخل کنجوسی کا مطیع ہو اور خواہشوں کا متبع اور ہر ایک شخص اپنی رائے ہی پسند کرنے لگے تو ، تو پھر تو اپنی جان کا فکر کر۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ جب تم ہدایت پا جاؤ تو پھر تم امر بالمعروف نہی عن المنکر بھی کرو گے۔ پھر اتمام حجت کے بعد اگر کوئی پھر بھی نہ مانے تو پھر اس کی گمراہی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۳ مورخه ۱۹ اگست ۱۹۰۹ صفحه ۹۱) عَلَيْكُمُ انْفُسَكُمْ -۔ مسند احمد حنبل کی حدیث اس کو حل کرتی ہے۔ ا۔ اذا رأیت شحاً (حرص) مُطَاعاً وَهَوَى مُتَّبَعاً وَالْجَابَ كُلِّ ذِي رَأَي بِرَأْيه - ۲۔ مسلم کی شرح نووی میں ہے تم اپنی فکر کرو یعنی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرتے رہو ۔ جب اپنا فرض ادا کرو گے تو پھر کوئی شخص گند کرے گا تو اس کا ضر ر تمہیں نہیں یہ نہ کہو کہ پہلے معنی حضرت ابو بکر کے ہیں کیونکہ بھلی بات جسے اللہ سمجھا دے ۔ ( تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹۔ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۵۱) ١٠٧ - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِيْنَ الْوَصِيَّةِ اثْنَنِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ أَخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ إِنْ أَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَأَصَابَتْكُمُ مُّصِيبَةُ الْمَوْتِ تَحْبِسُونَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلُوةِ فَيُقْسِن بِاللهِ إِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِى بِهِ ثَمَنَّا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبِي وَلَا تَكْتُمُ شَهَادَةَ اللَّهِ إِنَّا إِذًا لَمِنَ الْأَثْمِينَ - ترجمہ۔ اے ایماندارو! تمہارے سامنے کی گواہی جب کسی کو تم میں سے آ موجود ہو موت ، وصیت کرتے وقت تم ہی میں سے وہ صاحب عدالت کی ہونی چاہیے یا تمہارے سوائے اور دو شخصوں کی جو غیر ہوں ایسی حالت میں جب تم نے سفر کیا ہو ملک میں تو تم پر آپڑے موت کی مصیبت تو ان دونوں کو کھڑا کرو نماز کے بعد پھر وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں جب تم کو شک ہو ( وہ یہ لفظ کہیں ) ہم قسم کو