حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 335
حقائق الفرقان ۳۳۵ سُورَةُ الْمَائِدَة بال کاٹتے ۔ ہاں مہمان کو دودھ پلاتے ۔ اگر تیرہویں بچی بھی ہو جاتی تو اسے بھی آزاد سمجھتے ۔ خدا نے اس سے منع فرمایا۔ ایسی اونٹنی کو بحیرہ کہتے ہیں۔ سايبة - تین طرح پر جانور چھوڑے جاتے ہیں ایک تو جب وباء پڑے تو ایک جانور لے کر اُسے سیندھور وغیرہ ملا جاتا ہے۔ پھر اس پر غلہ وغیرہ رکھ کر شہر سے باہر نکال دیتے ہیں۔ ۲۔ بڑے بڑے امراء اپنے جانور چھوڑ دیتے ہیں۔ اپنی عظمت، جبروت، رعب داب دکھانے کے لئے کہ اسے بھلا کوئی چھیڑ سکتا ہے؟ عرب میں ایک شخص نے دنبہ چھوڑا تھا اس کے گلے میں چھری بھی باندھ دی تھی کہ کسی کو جرات ہے جو اسے ذبح کرے۔ ۳۔ نروں کو چھوڑ دیتے ہیں تاکہ نسل بڑھائیں۔ سکھوں کے زمانے میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔ مگر یہ سانڈ وغیرہ تو بجائے فائدہ کے نقصان کرتے ہیں اور وہ قوت نسل کشی کی ان میں رہتی ہی نہیں ۔ وَصِيلَة ۔ ایک بکری ہو۔ جب پانچ دفعہ جنے دو دو میمنے ۔ تو اس بکری کو چھوڑ دیتے۔ حکم ۔ اونٹ جس سے دس کے قریب نسل ہو چکی ہو ۔ لا يَعْقِلُونَ ۔ رسوم کے تابع ہو کر اس درجہ تک پہنچ جاتے ہیں پھر اپنے تئیں روک نہیں سکتے ہماری ایک قریبی رشتہ دار ایک شادی پر امداد کی درخواست کرنے لگی ۔ ہم نے کہا۔ ان رسوم کی ادائیگی کے لئے ہمارے پاس کچھ نہیں ۔ ایک ساہوکار نے اس بات کو سن لیا اور کہا کہ میں سب کچھ دوں گا۔ چنانچہ اس نے روپیہ دیا۔ تب قریبی رشتہ دار نے مجھے کہا کہ تم سے تو وہ ہی اچھا ہے ۔ لیکن جب اس نے سود در سود اور اصل کا مطالبہ کیا اور زمین تک جانے لگی تو معلوم ہوا کہ خیر خواہ کون تھا ! (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۴۳ مورخه ۱۹ را گست ۱۹۰۹ صفحه ۹۱) بحيرة ۔ جن کے کان کاٹ دیتے ہیں ۔ (ب) سائبة - سانڈ چھوڑنا۔ (ج) وَصِيلَة جونر کسی مادہ کے ساتھ پیدا ہوا سے رکھ لینا۔ (د) خام ۔ دس بچے ہو جا ئیں تو پھر اس جانور کو چھوڑ دیتے۔ تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۵۱) ١٠٦ - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمُ انْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ - ترجمہ ۔ اے ایماندارو ! تم اپنے نفس کی فکر کرو تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا وہ جو کوئی گمراہ ہوا جب تم